• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پراپرٹی کے کام میں ہونے والے نقصان کے ازالے کی ممکنہ صورتوں کا حکم

استفتاء

1) پراپرٹی ڈیلرز عام طور پر ایک زمین کا بیعانہ کرکے آدھی رقم ادا کر دیتے ہیں پھر قبضہ لیکر آگے زمین بیچنا شروع کر دیتے ہیں جب بقایا رقم ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو بعض اوقات ڈیلرز کی طرف سے بقایا رقم ادا کرنے میں ٹال مٹول شروع ہوجاتی ہے اور رقم اتنی لیٹ ہوجاتی ہے کہ اتنے عرصہ میں زمین کی قیمت ڈبل سے بھی بڑھ جاتی ہے جس پر مالک کہتا ہے کہ کم از کم بقایا رقم کے بقدر (1)یا تو مجھے زمین واپس دی جائے (2)یا آدھی زمین کی قیمت بڑھا دی جائے(3) یا اس کا دوبارہ سودا کیا جائے۔ اور یہ امر واقعی ہے کہ اس دوران ڈیلرز کو حد سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے اور تاخیر بھی اس کی طرف سے ہوتی ہے بلکہ بعض ڈیلرز خود زمین میں کوئی مقدمہ بنا لیتے ہیں تاکہ بقایا رقم کا مطالبہ نہ ہوسکے۔ مذکورہ صورت میں اس نقصان کے ازالے کی جائز اور ممکن صورتیں کیا ہوسکتی  ہیں؟

2) بعض اوقات مالک کی طرف سے ٹال مٹول شروع ہوجاتی ہے مثلاً خریدار سے لاکھوں یا کروڑوں روپے لےلیے ،اور قبضہ  یعنی  پوزیشن  مالک بلا وجہ یا اپنی غلطیوں کی بناء پر  نہیں  دیتا یا نہیں دے سکتا، اس صورت میں مالک خریدار کی رقم سے ڈبل یا اس سے بھی زیادہ کما لیتا ہے۔ اور خریدار ذلیل و خوار ہوتا رہتا ہے جبکہ بعض اوقات سالوں بعد تصفیہ کی نوبت آتی ہے تو مالک سابقہ رقم واپس کرنا چاہتا ہے اور(1) خریدار موجودہ ریٹ  کے حساب سے رقم مانگتا ہے یا (2)مالک سے کہتا ہے  کہ میں اب نئی قیمت سے میں یہ زمین آپ کو واپس بیچتا ہوں، یعنی صلح کی صورت چاہتا ہے اور حقیقت میں خریدار کو نقصان اور مالک کو بہت زیادہ فائدہ ہو چکا ہوتا ہے۔ خریدار کا نقصان  یہ ہوتا ہے کہ وہ سالوں تک اس پلاٹ یا زمین کو نہ استعمال کر سکا اور نہ بیچ سکا کہ کچھ کما کر آگے انویسٹ کر سکے، نہ گھر بنا سکا کہ رہائش اختیار کرلے  یا کرایہ پر دے سکے، جبکہ بیع کے وقت کم قیمت پہ میٹریل مل رہا تھا اب بہت زیادہ قیمت پر ملے گا وغیرہ۔

اب حل طلب بات یہ ہے کہ خریدار کے لیے نقصان کے ازالے کی کون سی صورت جائز ہے۔ اور کونسی ناجائز؟ اور مالک نے جو منافع لوگوں کو پھنسا کراس رقم سے کمایا ہے آیا وہ اس کے لیے حلال طیب ہے یا خبیث ہے؟ تحقیقی جواب دیکر مشکور فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔  مذکورہ صورت میں نقصان کے ازالے کی جو تین صورتیں مذکور ہیں یعنی (1)ڈیلر بقایا رقم کے بقدر یا زمین واپس کردے (2)یا آدھی زمین کی قیمت بڑھا دی جائے (3) یا اس (آدھی )زمین کا دوبارہ سودا کیا جائے ،ان میں سے (1)پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ یہ اس ڈیلر کی رضامندی پر موقوف ہے کیونکہ یہ اس زمین میں سابقہ بیع کا اقالہ بنے گا جو کہ  جانبین کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے لہذا  ڈیلر کی رضامندی کے بغیر بائع (بیچنے والا )اسے مجبور نہیں کرسکتا۔(2)دوسری صورت کا حکم  بھی یہی ہے کہ اس ڈیلر کی رضامندی پر موقوف ہے  کیونکہ یہ ڈیلر (خریدار )کی طرف سے ثمن میں اضافہ شمار ہوگا جس پر اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا  (3)اسی طرح  تیسری صورت  یعنی اس پلاٹ کا دوبارہ سودا کرنا بھی ڈیلر اور بائع (بیچنے والے)کی رضامندی  پر موقوف ہے،کیونکہ اس صورت میں بھی پہلے مذکورہ زمین میں سابقہ بیع کا اقالہ ہوگا اور پھر ازسر نو دوبارہ بیع ہوگی اور یہ دونوں باتیں باہمی رضامندی پر موقوف ہیں کوئی ایک فریق دوسرے کو مجبور نہیں کرسکتا۔

البتہ  ہمارے خیال میں   مذکورہ صورت   میں نقصان سے بچنے یا اس کے ازالے کے حل درج ذیل ہو سکتے  ہیں۔

الف ) پراپرٹی بیچتے وقت ہی یہ طے کرلیا جائے کہ اگر فلاں مدت مثلا 6 ماہ تک خریدار نے رقم ادا نہ کی تو ان دونوں کے درمیان بیع ہی نہیں ہوگی، اس کو بیع بخیار النقد کہتے ہیں یہ اگرچہ قیاس کی رو سے فاسد ہے لیکن استحسان (لوگوں کی ضرورت) کی وجہ  سے جائز ہے۔

ب) جب بعدمیں پراپرٹی ڈیلر رقم ادا کررہا ہو تو مالک اس سے اس رقم کی بجائے  سودا  ہونے کے وقت اتنی  رقم کا جتنا سونا یا چاندی آتی تھی اس کا مطالبہ کرسکتا ہے چونکہ عام طور پر سونے چاندی کا ریٹ بڑھتا رہتا ہے  لہذا قیمت کے اس فرق سے نقصان کی کسی حد تک تلافی ہو جائے گی۔

2) مذکورہ صورت میں  نقصان سے بیچنے کے جو  دو حل سوال میں مذکور ہیں یعنی  (1)  سودا ختم کر کے موجودہ ریٹ  کے حساب سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنا  (2) یا خریدار کا نئی قیمت کے حساب سے پلاٹ واپس بائع (بیچنے والے) کو بیچنا۔ (1) ان میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے  کہ  یہ جائز نہیں کیونکہ یہ صورت اقالے (سابقہ سودے کو کینسل کرنے) کی ہے اور سابقہ سودے کو کینسل کرنے کی صورت میں خریدار کو اتنی ہی رقم واپس لینے کا حق ہے جتنی اس نے دی تھی۔ (2) دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ یہ صورت باہمی رضامندی سے ہو تو جائز ہے تاہم خریدار بائع (بیچنے والے )کو اس پر مجبور نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ یہ ایک نئی بیع (سودا) ہے جو باہمی رضامندی پر سابقہ قیمت سے کمی بیشی پر بھی جائز ہے۔

الدر المختار (338/7) میں ہے:

هي (الاقالة)۔۔۔ رفع البيع

قوله ( رفع العقد ) ولو في بعض المبيع لما في الحاوي لو باع منه حنطة مائة من دينار ودفعها إليه فافترقا ثم قال للمشتري ادفع إلي الثمن أو الحنطة التي دفعتها إليك  فدفعها او بعضها فهو فسخ في المردود

الدر المختار (7/353)میں ہے:

 ( و ) الإقالة ( يمنع صحتها هلاك المبيع ) ولو حكما كإباق ( لا الثمن ) ولو في بدل الصرف ( وهلاك بعضه يمنع ) الإقالة ( بقدره ) اعتبارا للجزء بالكل ۔۔۔۔۔۔۔۔ وفيها شرى أرضا مزروعة ثم حصده ثم تقايلا صحت في الأرض بحصتها

قوله ( وهلاك بعضه ) أي بعض المبيع كما يأتي تصويره في قوله شرى أرضا مزروعة الخ

قوله ( اعتبارا للجزء بالكل ) يعني هلاك الكل كما منع في الكل فهلاك البعض يمنع في البعض وفيه إشارة إلى أنه لو قايله في بعض المبيع وقبله صح وبه صرح في الحاوي سائحاني وقدمنا أول الباب عبارة الحاوي

المجلہ (مادة :255) میں ہے:

للمشتري أن يزيد في الثمن  بعد العقد

المجلہ (مادة : 313) میں ہے:

إذا تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا وإن لم يؤده فلا بيع بينهما صح البيع وهذا يقال له خيار النقد

قال علی حيدر تحتہ (261/1):

والبيع بخيار النقد يكون مشروطا فيه إقالة فاسدة معلقة على شرط وبما أن الإقالة الصحيحة التي يشترط فيها البيع فاسدة فيكون البيع الذي تشترط فيه الإقالة الفاسدة فاسدا بطريق الأولى فالقياس يوجب عدم جواز البيع الذي يشترط فيه خيار النقد إلا أنه جوز استحسانا ووجه الاستحسان الاحتراز من مماطلة المشتري لأن المشتري إن لم يدفع الثمن فالحاجة تمس إلى فسخ البيع

وقال الاتاسی تحتہ(259/2):

وهذه المسئلة علي وجوه اما ان لم يبين الوقت اصلا بان قال علي انك ان لم تنقد الثمن فلا بيع بيننا ۔۔۔۔۔۔ ون بين وقتا معلوما ان كان ذلك الوقت مقدرا بثلاثة ايام او دون ذلك فالعقد جائز عند علمائنا الثلاثة رحمه الله  وان بين المدة اكثر من ثلاثة ايام قال ابو حنيفة رحمه الله البيع فاسد وقال محمد رحمه الله البيع جائز ۔۔۔۔۔۔ وقد اختارت جمعية المجلة قول محمد رحمه الله مراعاة لمصلحة الناس في هذا الزمان

حاشيہ ابن عابدين (4/ 533) میں ہے:

أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير وفي البزازية عن المنتقى غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أولا ليس عليه غيرها  وقال الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى  وهكذا في الذخيرةوالخلاصة عن المنتقى ونقله في البحر وأقره  فحيث صرح بأن الفتوى عليه في كثير من المعتبرات فيجب أن يعول عليه إفتاء وقضاء ولم أر من جعل الفتوى على قول الإمام  هذا خلاصة ما ذكره المصنف رحمه الله تعالى في رسالته بذل المجهود في مسألة تغير النقود وفي الذخيرة عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت  قال أبو يوسف قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها ثم رجع أبو يوسف وقال عليه قيمتها من الدراهم يوم وقع البيع ويوم وقع القبض اهـ  وقوله يوم وقع البيع أي في صورة البيع  وقوله ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف  وحاصل ما مر أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض لا مثلها

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved