- فتوی نمبر: 26-78
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > آن لائن کمائی > مروجہ آن لائن کمپنیاں
استفتاء
میرے ایک دوست ہیں انہوں نے آن لائن کاروبار شروع کیا ہے۔آپ راہنمائی فرمادیں کہ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں ؟
کاروبار کی تفصیل یہ ہے :
اب کریں گھر بیٹھے آن لائن بزنس اور ڈالرز کمائیں !
آپ کی دی گئی رقم کو اپنے کارو بار میں استعمال کر کے اس سے ہونے والے نفع سے شرعی اور فقہی مسائل کی روشنی میں آپ کی دی گئی رقم سے اضافی 3 گنا آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا ۔
عرض یہ ہے کہ ہم ان کی ویب سائٹ پر جا کر اپنا اکاؤنٹ بنائیں گے ۔ جس نے ہمیں سپانسر کیا ہے(یعنی جس شخص کے توسط سے ہم نے اکاؤنٹ بنایا ہے) ہم اس سے آن لائن ڈالرز خریدیں گے اوروہ ڈالرز ہمارے اکاؤنٹ پر واؤچرز(رسیدوں) کی شکل میں ظاہر ہوں گے واؤچرز10,25,50,100,150,200,250 ڈالرز اور اس سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں ۔پھر ہماری دی گئی رقم سے ارننگ (کمائی)ہو گی۔جس کا وقت 50دن یا اس سے کم ہے۔ ارننگ(کمائی) کے بعد ہمارے اکاؤنٹ میں(ہماری دی گئی رقم کو اپنے کاروبار میں استعمال کر کے، اس سے ہونے والے نفع میں سے) ہماری دی گئی رقم سے تین گناہ زیادہ رقم ٹرانسفر کر دی جائے گی۔
یہ کمپنی ہماری دی گئی رقم سے 16گنا زیادہ رقم خود انویسٹ کرتی ہے اور اس سے ہونے والے نفع میں سے ہمیں ہماری رقم کا تین گنا اضافی دیتی ہے۔مثلاً:
انویسٹ :10ڈالر ،دن 50 ،نفع 30 ڈالر
انویسٹ :25ڈالر ، دن:50، نفع:75ڈالر
انویسٹ:100 ڈالر ، دن:50، نفع:300 ڈالر
ہم 30,000ڈالرز تک انویسٹمینٹ کر کے 50 دن کی ارننگ کے بعد 60,000ڈالرز کما سکتے ہیں۔
اگر ہم اس ویب سائٹ کو اپنے دوستوں میں شئیر کریں اور یہ ویب سائٹ ہماری وجہ سے مشہور ہو جائے تو ہماری ارننگ(کمائی ) ایک دن کے اندر بھی ہو سکتی ہے حالانکہ ارننگ کے دن50 ہیں۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔ڈالر خریدنے کی کیا صورت ہے؟2۔نیز کیا انویسٹ کی ہوئی رقم کو نکالنے کی آپشن ہوتی ہے ؟
جواب وضاحت:1۔ہم اپنے سپانسر کے اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے منتقل کرکے ان سے کہتے ہیں کہ ان روپوں کے ڈالر کا واؤچر بناکرہمارے اکاؤنٹ پر لگا دیں اور رقم وصول کرکے ہمارے اکاؤنٹ پر اتنے ہی ڈالروں کے واؤچر لگادیتے ہیں ۔2۔اگر ہم آگے نہ چلنا چاہیں تو دو ،تین ماہ تک ہمیں ہماری انویسٹ واپس مل سکتی ہے۔
نوٹ:کمپنی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کمپنی کرپٹو کرنسی اور فاریکس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرکےنفع کماتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ طریقے سے کمائی کرنا جائز نہیں ،جس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں :
1)مذکورہ صورت میں کمپنی اپنی اور آپ کی رقم سے کاروبار کرے گی جوکہ شرکت یا مضاربت کی صورت ہو گی ،شرکت اور مضاربت میں یہ ضروری ہے کہ نفع ،نفع کے فیصدی تناسب سے تقسیم ہو جبکہ مذکورہ صورت میں انویسٹر کو جو نفع دیا جارہا ہے وہ نفع کے کسی فیصدی تناسب سے نہیں دیا جا رہا بلکہ انویسٹر کے لگائے گئے سرمائے کے تناسب سے دیا جارہا ہے یعنی سرمایہ کا 3 گنا دیا جارہا ہے ۔
2) یہ کمپنی کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ میں سر مایہ کاری کرکے نفع کماتی ہے ،جوکہ جائز نہیں ہے ۔
3)کمپنی کی ویب سائٹ پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے:
Once someone registers through your referral link, he automatically becomes your referral! You will receive referral commission for every deposit that your direct referral makes.We also offer referral commission from your team downline upto 10 levels.
ترجمہ : جب کوئی شخص آپ کے دیئے ہوئے لنک سے (اس ویب سائٹ میں ) رجسٹر ہوتے ہیں تو وہ خود بخود آپ کے ریفرل بن جاتے ہیں اور آپ کو ان کی طرف سے جمع کروائی گئی رقم پر کمیشن ملے گا ۔نیز ہم آپ کی ٹیم کے(10 درجے ) نچلے کارکنان کا ریفرل کمیشن بھی آپ کو دیں گے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی میںMLM (Multi Level Marketing) بھی ہے جوکہ ناجائز ہونے کی ایک مستقل وجہ ہے ۔ اکاؤنٹ ہولڈر نے ایک مرتبہ کسی کو رجسٹر کروادیا اور اس کی وجہ سے اس کو کمیشن مل گیا ،یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اکاؤنٹ ہولڈر کے ریفرل نے کسی کو رجسٹر کروایا اور اس نے اگلے بندے کو رجسٹر کروایا جس میں پہلے بندے کی کوئی قابل شمار محنت اور کاوش نہیں ہے اور پھر بھی اس کو کمیشن مل رہا ہے یہ بات شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved