• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

منبر کی کونسی سیڑھی پر خطبہ دیا جاتا ہے؟

استفتاء

منبر رسول ﷺ کے بارے  میں حدیث میں آتاہے  کہ آپ ﷺ نے پہلی سیڑھی  پر قدم رکھا پھر فرمایا آمین دوسری پر قدم رکھا فرمایا آمین  تیسری پر قدم رکھا  فرمایا آمین  ساری حدیث آپ کو یا د ہے  میر سوال یہ ہے کہ تیسری پر تو قدم رکھا ہی نہیں جاتا  بلکہ میں دیکھتا ہو ں  ہمارے خطیب صا حب  پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں دوسری پر بیٹھ  جاتے ہیں   کبھی کبھار تو پہلی پر ہی بیٹھ جاتے ہیں توسنت کیسے ادا ہوئی؟ ثواب  تو تب ملتا  جب تینوں سیڑھیوں پر قدم رکھا جائے  وضاحت بحوالہ  فرماکر مشکور فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ حدیث میں آپ ﷺ نے جو تیسری  سیڑھی  پر قدم  رکھا  تو اس سے مراد یہ نہیں کہ آپ ﷺ چوتھی  سیڑھی   پر  بیٹھے ہوں   اور تیسری پر قدم  رکھے  ہوں بلکہ مرادیہ  ہے کہ تیسری  سیڑھی  پر کھڑے  ہو کر خطبہ دیا  ،کیونکہ آپ ﷺ کے منبر کی کل تین سیڑھیا ں تھیں چوتھی سیڑھی تھی ہی نہیں ، اس لیے  جب آپ ﷺ منبر پر بیٹھتے تھے  تو تیسری  سیڑھی پر بیٹھتے تھے اور دوسری  سیڑھی پر قدم رکھتے تھے  اور آ ج کل بھی اکثر  وبیشتر خطیب  حضرات اسی  طرح کرتے  ہیں ۔ اور اگر کوئی  خطیب دوسری پر بیٹھ جاتا ہے  اور پہلی پر قدم رکھتا ہے  یا پہلی  پر ہی بیٹھ جاتا ہے  اور زمین  پر قدم رکھتا ہے  تو یہ بھی  صحیح ہے اور سنت کے خلاف نہیں  کیونکہ آپ ﷺ کے بعد جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  منبر پر بیٹھتے  تھےتو   پہلی پر قدم رکھتے تھے  اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے بعد جب حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  منبر   پر بیٹھتے تھے  تو پہلی سیڑھی  پر بیٹھتے تھے  اورقدم زمین پر رکھتے تھے   اگر یہ عمل  سنت کے خلاف ہو تا تو یہ حضرات  ایسا نہ کرتے ۔

وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى لعلی بن عبد اللہ السمہودی المتوفی 911ھ(2/10)میں ہے:

وروى يحيى عن ابن أبي الزناد أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجلس على المجلس، ويضع رجليه على الدرجة الثانية، فلما ولي أبو بكر قام على الدرجة الثانية، ووضع رجليه على الدرجة السفلى، فلما ولي عمر قام على الدرجة السفلى، ووضع رجليه على الأرض إذا قعد، فلما ولي عثمان فعل ذلك ست سنين من خلافته؛ ثم علا إلى موضع النبي صلى الله عليه وسلم.

امتاع الاسماع لتقی الدین احمد بن علی المقریزی المتوفی 845ھ(10/ 97) میں ہے:

وكان صلى الله عليه وسلّم يجلس على المنبر ، ويضع رجليه على الدرجة الثانية ، فلما ولى أبو بكر رضى الله عنه ، قام على الدرجة الثانية ، ووضع رجليه على الدرجة السفلى ، فلما ولى عمر رضى الله عنه ، قام على الدرجة السفلى ، ووضع رجليه على الأرض إذا قعد ، فلما ولى عثمان رضى الله عنه ، فعل ذلك ست سنين من خلافته ، ثم علا إلى موضع النبي صلى الله عليه وسلّم وكسا المنبر قبطية

مسند الرويانی   ،لمحمد بن ہارون الرويانى المتوفى 307ھ(رقم الحدیث،56)میں ہے:

 حدثنا ابن إسحاق ، نا عثمان بن أبي شيبة ، نا جرير ، عن عطاء بن السائب ، عن أصحابه، عن بريدة قال : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على المنبر ساعة ، فقالوا : يا رسول الله، ما أقامك ؟ قال : «أتاني جبريل فقال : من ذكرت عنده فلم يصل عليك فأبعده الله . قلت : آمين، ومن أدرك والديه، أو أحدهما فلم يغفر له فأبعده الله . قلت : آمين»

كنز العمال(رقم الحديث،  36850)میں ہے:

عن صالح مولى التوأمة قال: حدثني باقوم مولى سعيد بن العاص قال: صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم منبرا من طرفاء الغابة ثلاث درجات المقعد ودرجتين.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved