- فتوی نمبر: 26-101
- تاریخ: 18 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ علی المعاصی
استفتاء
میں انگلینڈ میں ایک کمپنی میں فوڈ ڈلیوری کا کام کرتا ہوں،جس میں ہفتہ میں ایک دن شراب کا آرڈر بھی آجاتا ہے،آیا ایسی کمائی کی آمدنی حلال ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غیر مسلم کا آرڈر ہو اور بیچنے والا بھی غیر مسلم ہو تو بعض ائمہ کے نزدیک شراب کی ڈلیوری جائز ہے اور بعض کے نزدیک جائز نہیں لہٰذا اگر کوئی خاص مجبوری ہو تو گنجائش ہے ورنہ احتیاط کی جائے،البتہ آرڈردینےوالے یا بیچنے والے کےمسلمان ہونے کی صورت میں شراب کی ڈلیوری کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے اور اس صورت میں کمائی بھی (طیب) پاکیزہ نہیں ہے ۔
توجیہ:مذکورہ سوال انگلینڈ سےمتعلق ہے جو کہ دارالحرب ہے اور امام صاحب کے نزدیک حربی اور ذمی کافر جبکہ صاحبین کے نزدیک حربی کافر مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لئے شراب ان کے حق میں معصیت نہیں ہے،لہذا مذکورہ صورت میں مسلمان کا ان کو یہ چیزیں اجرت پر سپلائی کرنا اعانت علی المعصیت کی صورت نہیں بنتی لہذا یہ صورت جائز ہوگی جبکہ جس صورت میں خریدار مسلمان ہویا بیچنے والا مسلمان ہو تو یہ صورت اعانت علی المعصیت کی وجہ سے ناجائز ہوگی۔
المحیط البرھانی(347/11) میں ہے:
وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كأنه غير نازل في حقه.
وهذا بخلاف ما إذا استأجر الذمي من المسلم بيتاً يصلي فيه حيث لا يجوز؛ لأن ثمة صفة المعصية، إذا أمنت في حقه لديانته تبقى صفة الطاعة و الاستئجار على الطاعة لا يجوز ومعنى صفة المعصية متى انتفت عن الشرب لديانته بقي فعلاً مباحاً في نفسه ليس بطاعة فتجوز الإجارة، وفيما إذا لم ينص على الشرب، فالوجه له أن الخمر كما يكون للشرب وإنه معصية في حق المسلم يكون للتخليل، وإنه مباح للكل فإذا لم ينص على الشرب يجب أن يجعل التنقل للتخليل حملاً لهذا العقد على الصحة.وهو نظير ما لو استأجر الذميّ من المسلم بيتاً ولم يقل ليصلى فيه، فإنه يجوز، وإن كان له أن يصلي فيه ويتخذه بيعة وكنيسة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved