- فتوی نمبر: 26-116
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
بعض اوقات گاہک HP سے خاص آئٹم طلب کرتے ہیں اور وہ آئٹم HP کے پاس نہیں ہوتی، تو اس وقت گاہک سے کہتے ہیں کہ ایڈوانس کچھ رقم دیدو تو آپ کی چیز کمپنی سے منگوالی جائے گی جب وہ چیز HPکے پاس فلپس کمپنی کی طرف سے پہنچ جاتی ہے تو منگوائی گئی چیز کے بارے میں گاہک کو بتا دیا جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے گاہک منگوائی گئی چیز کو لینے سے انکار کردے تو HPاس صورت میں گاہک کے ایڈوانس کے پیسے واپس نہیں کرتی اور دوسرے گاہکوں کو اس چیز کے طلب نہ ہونے کی وجہ سے ایڈوانس کے بقدر کمی کرکے سیل کردیتی ہے۔ مذکورہ صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایڈوانس کی رقم واپس نہ کرنا درست نہیں، البتہ اگر پہلے شخص کے نہ خریدنے کی وجہ سے HPکو کوئی حقیقی نقصان ہو تو اس صورت میں ایڈوانس کی رقم سے حقیقی نقصان کے بقدر کٹوتی کر کے باقی رقم پہلے شخص کو واپس کرنا ضروری ہے۔
نوٹ : حقیقی نقصان کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں HP کو مارکیٹ میں وہ چیز بیچنی پڑے اور لاگت سے بھی کم میں بکے تو جتنی کم میں بکے گی وہ حقیقی نقصان شمار ہوگا متوقع نفع کا کم ہونا حقیقی نقصان نہیں ۔
المعاییر الشرعیۃ (ص 52 بند /2/8/7) میں ہے:
يجوز اخذ مبلغ من العميل الواعد بالشراء لتوثيق وعده اذا كان الوعد ملزما للعميل ويسمي هامش الجدية وهو امانة وليس عربونا لعدم وجود العقد وتطبق عليه الاحكام المبينة في البند 7/8/1 ولا يؤخذ منه عند النكول الا مقدار الضرر الفعلي وهو الفرق بين التكلفة وثمن المبيع للغير۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved