• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمیٹی کے متعلق مختلف سوالات

استفتاء

1           ۔ہم دکانداروں نے آپس میں مہینے کے اعتبار سے کمیٹی شروع کی ہے ،ساری کمیٹی کی رقم زید خود مہینے کے شروع میں سب دکانداروں سے جمع کرتا ہے ،اس میں زیدنے پہلے سے دکانداروں سے یہ بات طے کی تھی کہ ہر شخص کی کمیٹی نکلنے پر میں پانچ سو روپے لوں گا۔ یہ اس وجہ سے کہ میں آپ لوگوں کے پاس دکان سے وقت نکال کرآتا ہوں جس میں کبھی موٹر سائیکل استعمال کرتا ہوں اور کبھی پیدل چل کر آتا ہوں، زید کی اس بات پر سارے دکاندار راضی بھی ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس میں کچھ حضرات ایسے ہیں جو خود زید کے پاس کمیٹی لے کر آتے ہیں توزید کے لئے ان دونوں حضرات سے یعنی جن کے پاس زید خود جاتا ہے اور جو حضرات خود زید کے پاس کمیٹی لے کر آتے ہیں پانچ سو روپے لینا شرعاً کیسا ہے؟

2۔زید نے تمام کمیٹی والے حضرات سے کہا ہے کہ سب سے پہلے کمیٹی میں لوں گااس پر سارے کمیٹی اراکین راضی ہوگئےتو زید کا یہ شرط لگانا درست ہے یا نہیں؟

3۔زید نے تمام کمیٹی اراکین سے کہا ہےکہ اگر کوئی شخص کمیٹی کے دوران نکلنا چاہے تو اس کی جمع شدہ رقم اس کو سب سے آخر میں ملے گی اس پر سب راضی ہوگئے ،زید کے لیے یہ شرط لگانا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جو حضرات خود زید کے پاس کمیٹی لے کر آتے ہیں ان سے ان کی کمیٹی نکلنے پر پانچ سو(500)روپے لینا شرعاً جائز نہیں کیونکہ ان حضرات کا زید نے کوئی کام نہیں کیا ۔اور جن حضرات کے پاس زید خود جاتا ہے ان سے اپنے آنے جانے کا حقیقی خرچہ (وہ بھی اگر ہوا ہو تو)لے سکتا ہے،ہر ایک سے پانچ سو (500)روپے لینا جائز نہیں۔

توجیہ: کمیٹی کا معاملہ باہمی تعاون اور تبرع کا ہے جس کو ضرورت  کی بنیاد پر  استحسانا جائز قرار دیا گیا ہے اس لیے اس میں منتظم کا اجرت طے کرنا اور اسے کمائی کا ذریعہ بنانا جائز نہیں نیز چونکہ کمیٹی کا معاملہ باہمی قرض کا  ہے جس میں ہر ایک قرض دیتا بھی ہے اور وصول بھی کرتا ہے لہذا  اجارہ بنانے کی  صورت میں قرض اور اجارہ  کو جمع کرنا بھی لازم آئے گاجو کہ ناجائز ہے    اس لیےمذکورہ صورت میں جن لوگوں کے پاس زید کو خود چل کر جانا پڑتا ہے ان سے  500  روپوں کا  زید کو اپنے  آنے جانے کی یا کمیٹی کی رقم وصول کرنے کی اجرت  کے طور پر لینا جائز نہیں، البتہ لوگوں سے جا کر خود  وصول کرنا  چونکہ اس کی اصلا  ذمہ داری نہیں اس لیے وہ اپنا حقیقی خرچہ وصول کر سکتا ہے۔

2۔باہمی رضامندی سے ایسا کرنا جائز ہے۔

3۔ جائز ہے

توجیہ: کمیٹی میں جو رقم دی جاتی ہے وہ بطور قرض دی جاتی ہے اور  احناف کے نزدیک قرض کی واپسی کے لئے مدت مقرر کرنے سے  بھی مقرر نہیں ہوتی بلکہ قرض خواہ کبھی بھی اپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے  جس کا تقاضہ یہ ہے کہ جو شخص بھی کمیٹی سے جب بھی نکلنا چاہے اور اپنی دی ہوئی رقم کا مطالبہ کرے توباقیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے رقم ادا کریں لیکن  اسی وقت رقم ادا کرنے میں دیگر اراکین کا بھی حرج ہے اوراس  طرح انتظامی اعتبار سے بھی حرج لازم آتا ہے کہ لوگ جب چاہیں اپنی مرضی سے نکل جاتے ہیں ،جبکہ  مالکیہ کے نزدیک قرض کی واپسی کے لئے مدت مقرر کی جا سکتی ہے لہذا اس صورت میں مالکیہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس بات  کی گنجائش ہے کہ پہلے سے ہی یہ طے کرلیا جائے کہ جو درمیان میں کمیٹی چھوڑ ے گا تو اس کی رقم کی واپسی آخر میں ہو گی۔

المعجم الأوسط للطبرانی (9/ 21)میں ہے:

عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعتاب بن أسيد: «إني قد بعثتك على أهل الله أهل مكة، فانههم عن بيع ما لم يقبضوا، وعن ربح ما لم يضمنوا، وعن شرطين في شرط، وعن بيع وقرض، وعن بيع وسلف»

الذخيرہ للقرافی(5/ 295)میں ہے:

«فرع في الجواهر: يجوز اشتراط الأجل في القرض قال صاحب (القبس) : انفرد مالك دون سائر العلماء باشتراط الأجل في القرض ويجوز التأخير من غير شرط اجماعا لقوله صلى الله عليه وسلم: (إن رجلا كان فيمن كان قبلكم استسلف من رجل ألف دينار إلى أجل فلما حل الأجل طلب مركبا فخرج إليه فيه فلم يجده فأخذ قرطاسا وكتب فيه إليه ونقر خشبة فجعل فيها القرطاس والألف ورمى بها في البحر وقال: اللهم إنه قال حين دفعها إلي: اشهد لي فقلت: كفى بالله شاهدا وقال ائتني بكفيل فقلت: كفى بالله كفيلا اللهم أنت الكفيل بإبلاغها فخرج صاحب الألف دينار إلى ساحل البحر ليحتطب فدفع البحر له العود فأخذه فلما فلقه وجد المال والقرطاس ثم إن ذلك الرجل وجد مركبا فأخذ المال وركب وحمله إليه فلما عرضه عليه قال له: قد أدى الله أمانتك)

معاییر(ص:270)میں ہے:

’’یجوز اشتراط الاجل فی القرض،فلا يلزم المقترض الوفاءقبل حلول الاجل‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved