- فتوی نمبر: 26-124
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
بیوی کا بیان:
میرا نام ***ہے، میں ***کی رہائشی ہوں، میرا خاوند زید آئس اور چرس کے نشے کا عادی ہے، میری شادی کو تقریبا دو سال ہو چکے ہیں، میرے خاوند نے نشے کی حالت میں دو مختلف اوقات میں اپنے حقیقی بھائی، والدہ اور اپنی بھابھی کے سامنے مجھے کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ اور یہ الفاظ تین بار دوہرائے، مجھے تشویش ہوئی تو میری ساس اور دیور نے مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ تمہارا خاوند نشے کی حالت میں ہے، ایسی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کچھ مہینے گزرنے کے بعد یہ واقعہ دوبارہ پیش آیا اور اسی طرح سے میرے خاوند نے نشے کی حالت میں پھر سے مجھے تین مرتبہ کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ دونوں واقعات میں میرے شوہر نشے میں تھے اور اول فول بک رہے تھے، والدہ کو بھی گالیاں دے رہے تھے، اوراس دوران انہوں نے نارمل انسان کی طرح کوئی ایک بات بھی نہیں کی سب غلط باتیں کر رہے تھے۔ میں نے فی الحال اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور میں اس کے ساتھ مزید رہنا بھی نہیں چاہتی کیونکہ وہ اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتا اور اس حال میں اس کے ساتھ میں رہ نہیں سکتی، ہر وقت نشے میں رہتا ہے، مجھ پر الزامات لگاتا ہے، اس کے نشے کی وجہ سے اس کے بہن بھائی اور اس کی والدہ اس کو چھوڑ کے چلے گئے ہیں، میں کیسے اس کے ساتھ گزارا کروں؟ مجھے فتوی درکار ہے کہ میرے خاوند نے نشے کی حالت میں جو الفاظ کہے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے؟ کیا شریعت محمدی کے مطابق مجھے طلاق ہو چکی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
راجح اور مفتی بہ قول کے مطابق مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: ناجائز نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کے بارے میں حنفیہ کا اگرچہ راجح موقف یہی ہے کہ یہ طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن حنفیہ میں سے ہی بعض بڑے حضرات مثلا امام طحاویؒ اور امام کرخیؒ اور صحابہ کرامؓ میں سے بعض بڑے صحابہ و تابعین مثلا حضرت عثمانؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت قاسم بن محمدؒ، حضرت ربیعہؒ، حضرت لیثؒ کا موقف یہ ہے کہ ناجائز نشے کی حالت میں دی گئی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی۔
ہمارے زمانے میں نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع ماننے سے اکثر زد بیوی پر ہی پڑتی ہے، لہذا بیوی بچوں کی مجبوری کی وجہ سے ان حضرات کے قول پر عمل کیا جا سکتا ہے جو نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کو واقع نہیں مانتے، تاہم جہاں خود عورت ہی علیحدہ ہونا چاہےتو وہاں چونکہ اس قول پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں لہذا ایسی صورت میں اس قول پر عمل کرنا بھی درست نہیں۔
فتح القدير (472/3) میں ہے:
وفي المسئلة خلاف عال بين التابعين و من بعدهم فقال بوقوعه من التابعين سعيد بن المسيب وعطاء والحسن البصري و إبراهيم النخعي و ابن سيرين و مجاهد و به قال مالك و الثوري و الأوزاعي و الشافعي في الأصح و أحمد في رواية وقال بعدم وقوعه القاسم بن محمد وطاوس وربيعة بن عبد الرحمن والليث وإسحاق بن راهويه وأبو ثور وزفر، وقد ذكرناه عن عثمان رضي الله عنه، وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما وهو مختار الكرخي والطحاوي ومحمد بن سلمة من مشايخنا.
درمختار مع ردالمحتار( 432/4) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها)……. (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري…….. ولم يوقع الشافعي طلاق السكران واختاره الطحاوي والكرخي، وفي التتارخانية عن التفريق: والفتوى عليه.
(قوله أو سكران) السكر: سرور يزيل العقل فلا يعرف به السماء من الأرض. وقال: بل يغلب على العقل فيهذي في كلامه، ورجحوا قولهما في الطهارة والأيمان والحدود. وفي شرح بكر: السكر الذي تصح به التصرفات أن يصير بحال يستحسن ما يستقبحه الناس وبالعكس. لكنه يعرف الرجل من المرأة قال في البحر: والمعتمد في المذهب الأول نهر. قلت: لكن صرح المحقق ابن الهمام في التحرير أن تعريف السكر بما مر عن الإمام إنما هو السكر الموجب للحد، لأنه لو ميز بين الأرض والسماء كان في سكره نقصان وهو شبهة العدم فيندرئ به الحد وأما تعريفه عنده في غير وجوب الحد من الأحكام فالمعتبر فيه عنده اختلاط الكلام والهذيان كقولهما. ونقل شارحه ابن أمير حاج عنه أن المراد أن يكون غالب كلامه هذيانا، فلو نصفه مستقيما فليس بسكر فيكون حكمه حكم الصحاة في إقراره بالحدود وغير ذلك لأن السكران في العرف من اختلط جده بهزله فلا يستقر على شيء………. (قوله واختاره الطحاوي والكرخي) وكذا محمد بن سلمة، وهو قول زفر كما أفاده في الفتح (قوله عن التفريق) صوابه عن التفريد بالدال آخره لا بالقاف كما رأيته في نسخ التتارخانية.(قوله والفتوى عليه) قد علمت مخالفته لسائر المتون ح. وفي التتارخانية: طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ وهو مذهب أصحابنا.
درمختار مع ردالمحتار(175/1) میں ہے:
وحاصل ما ذكره الشيخ قاسم في تصحيحه:…… وأن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للإجماع.
(قوله: وأن الحكم والفتيا إلخ) وكذا العمل به لنفسه. قال العلامة الشرنبلالي في رسالته ’’العقد الفريد في جواز التقليد‘‘ : مقتضى مذهب الشافعي كما قاله السبكي منع العمل بالقول المرجوح في القضاء والإفتاء دون العمل لنفسه. ومذهب الحنفية المنع عن المرجوح حتى لنفسه لكون المرجوح صار منسوخا اهـ فليحفظ، وقيده البيري بالعامي أي الذي لا رأي له يعرف به معنى النصوص حيث قال: هل يجوز للإنسان العمل بالضعيف من الرواية في حق نفسه، نعم إذا كان له رأي، أما إذا كان عاميا فلم أره، لكن مقتضى تقييده بذي الرأي أنه لا يجوز للعامي ذلك. قال في خزانة الروايات: العالم الذي يعرف معنى النصوص والأخبار وهو من أهل الدراية يجوز له أن يعمل عليها وإن كان مخالفا لمذهبه اهـ.
قلت: لكن هذا في غير موضع الضرورة، فقد ذكر في حيض البحر في بحث ألوان الدماء أقوالا ضعيفة، ثم قال: وفي المعراج عن فخر الأئمة: لو أفتى مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلبا للتيسير كان حسنا. اهـ. وكذا قول أبي يوسف في المني إذا خرج بعد فتور الشهوة لا يجب به الغسل ضعيف، وأجازوا العمل به للمسافر أو الضيف الذي خاف الريبة كما سيأتي في محله وذلك من مواضع الضرورة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved