- فتوی نمبر: 26-129
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
گزارش ہے کہ ہمارے بھائی زید کو فوت ہوئے تقریباً 15،14 سال ہو گئے ہیں اور ابھی دو ماہ پہلے ہمارے والد صاحب فوت ہوئے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ فوت شدہ بھائی زید کے بیوی بچے دادا کی جائیداد کے حصے دار ہیں یا نہیں؟
ہم پانچ بھائی اور ایک بہن تھے جن میں سے دو بھائی والد صاحب کی وفات سے پہلے فوت ہو گئے تھے باقی سب حیات ہیں۔زید اور خالد فوت ہو چکے ہیں اور خالد کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شریعت کی رو سے مذکورہ صورت میں فوت شدہ بھائی زید کے بیوی بچے دادا کی جائیداد میں حصے دار نہیں کیونکہ وراث مثلا بیٹا جب اپنے مورث مثلا والد کی زندگی میں فوت ہوجائے تو وہ وارث نہیں بنتا لہذا زید کے بیوی بچے خود زید کے واسطے سے دادا کی جائیداد میں وارث نہیں بن سکتے اور چونکہ بہو اپنے سسر کی وارث نہیں ہوتی اور بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتے وارث نہیں بنتے اس زید کے بیوی بچے براہ راست بھی دادا کی جائیداد میں وارث نہیں بن سکتے۔
السراجی فی المیراث (ص:36)میں ہے:
’’اما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته الي الميت انثي وهم اربعة اصناف جزء الميت واصله و جزء ابيه وجزء جده الاقرب فالاقرب يرجحون بقرب الدرجة اعني اولاهم بالميراث جزء الميت اي البنون ثم بنوهم وان سفلوا‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved