- فتوی نمبر: 26-130
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > حیض و نفاس کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام وفقہائے عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی حیض کی عادت مہینہ کے پہلے کے سات دن اور تئیس دن طہر (پاکی) کے متعین تھی ۔پھر کچھ عرصہ بعد اس کی عادت بدل گئی ، حیض کی عادت دس دن ہوگئی اورطہر(پاکی) بیس دن ، اور یہی اس کی عادت رہی اور اب تک یہی عادت چل رہی ہے، سال پہلے اس کی طبیعت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے وہ کمزور بھی ہوگئی اس کے بعد سے اس کو دوسرے عشرہ میں تین ،چار دن بعد کبھی کبھی ایک دن خون آتا ہے اور تیسرا پورا عشرہ خون آتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ (1)دوسرے عشرہ میں ایک دن جو خون آتا ہے اور اسی طرح تیسرا پورا عشرہ خون آتا ہے یہ خون حیض شمار ہو گا یا استحاضہ؟ (2)اگر استحاضہ شمار ہوگا تو اس میں نماز ،تلاوت کا کیا حکم ہے؟ اور اس حالت میں وطی کرنا جائز ہے؟
نوٹ:مذکورہ عورت کی عادت مہینے کے پہلے دس دن حیض اور بیس دن طہر کی تھی اور اب اس عورت کو مہینے کے پہلے دس دن خون آنے کے بعد دوسرے عشرے میں ایک دن خون آیا اور تیسرا پورا عشرہ خون آیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)مذکورہ صورت میں پہلا عشرہ حیض کا شمار ہو گا اور باقی دن استحاضہ کے شمار ہونگے۔
(2)استحاضہ کی حالت میں نماز ،تلاوت اور وطی کرنا جائز ہے۔
ذخر المتاہلین (104) میں ہے:
والاستحاضة فحدث أصغر كالرعاف … أما الأول: فكالنفاس إلا أنه لا يسقط الصلاة ولا يحرم الصوم.
مسائل بہشتی زیور(106/1) میں ہے:
استحاضہ کا حکم ایسا ہے جیسے کسی کو نکسیر پھوٹ جائے۔ ایسی عورت نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے قضا نہ کرنا چاہئے اور اس سے صحبت کرنا بھی درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved