• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

باہر ممالک میں ڈیلیوری کی کمپنی میں کام کرتے ہوئے حرام کھانا ڈیلیور کرنے کا حکم

استفتاء

جس طرح ہمارے ملک میں فوڈ پانڈا (Food Panda) کمپنی کے ڈیلیوری والے لڑکے ہوتے ہیں اس طرح باہر کے ملک (سویڈن) میں بھی یہی صورت ہے۔ چونکہ وہ ایک غیر مسلم ملک ہے تو وہاں بکرا، مرغی، گائے تکبیر کے بغیر ذبح کیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ خنزیر یعنی سور کا گوشت بھی استعمال ہوتا ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ایک ڈبہ وہ دیتے ہیں کہ اسے ڈیلیور کر آؤ۔ اتنا پتا چل جاتا ہے کہ اس میں برگر، پیزا، شوارما ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ اس میں سور ، مرغی، بکرے یا گائے میں سے کس کا گوشت ہے۔ اور پینے میں صرف سوفٹ ڈرنک (Pepsi,Coca-Cola) وغیرہ ڈیلیور ہوتی ہیں۔ شراب کے لئے وہاں کلب، پب (Club, Pub)  ہیں جہاں عمر دیکھ کر شراب دیتے ہیں ۔ ڈیلیوری کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔مزید یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ڈبہ بس ڈیلیور کر آؤ اور پیسے ادھر بینک کے ذریعہ سے پہنچتے ہیں۔ تو کیا وہاں ڈیلیوری بوائے کا کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ کام جائز ہے  بشرطیکہ  ریسٹورنٹ کا مالک غیر مسلم ہواور خریدار بھی غیر مسلم ہولہذا جس صورت میں آپ کو یقینی علم ہو کہ ڈبہ میں حرام کھانا ہے اور اس کاخریدار بھی مسلمان ہے یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہے تواس صورت میں کھانا ڈیلیور کرنا جائز نہیں۔

توجیہ:مذکورہ سوال سویڈن سے متعلق ہے جو کہ دارالحرب ہے اور امام صاحب کے نزدیک حربی اور ذمی کافر جبکہ صاحبین کے نزدیک حربی کافر مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لئے شراب یا حرام کھانے ان کے حق میں معصیت نہیں ہیں لہذا مذکورہ صورت میں مسلمان کا ان کو یہ چیزیں اجرت پر سپلائی کرنا اعانت علی المعصیت کی صورت نہیں بنے گی لہذا یہ صورت جائز ہوگی، جبکہ جس صورت میں خریدار مسلمان ہو یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہو اور سپلائی کرنے والے کو معلوم بھی ہو کہ ڈبہ میں جو کھانا ہے وہ حرام ہے تو یہ صورت اعانت علی المعصیت  کی بنے گی جس کی وجہ سے یہ صورت ناجائز ہوگی۔

المحیط البرھانی،کتاب الاجارۃ، فصل ۱۵: بیان ما یجوز من الاجارات (طبع: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 347) میں ہے:

“وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كأنه غير نازل في حقه.

وهذا بخلاف ما إذا استأجر الذمي من المسلم بيتاً يصلي فيه حيث لا يجوز؛ لأن ثمة صفة المعصية، إذا أمنت في حقه لديانته تبقى صفة الطاعة و الاستئجار على الطاعة لا يجوز ومعنى صفة المعصية متى انتفت عن الشرب لديانته بقي فعلاً مباحاً في نفسه ليس بطاعة فتجوز الإجارة، وفيما إذا لم ينص على الشرب، فالوجه له أن الخمر كما يكون للشرب وإنه معصية في حق المسلم يكون للتخليل، وإنه مباح للكل فإذا لم ينص على الشرب يجب أن يجعل التنقل للتخليل حملاً لهذا العقد على الصحة.وهو نظير ما لو استأجر الذميّ من المسلم بيتاً ولم يقل ليصلى فيه، فإنه يجوز، وإن كان له أن يصلي فيه ويتخذه بيعة وكنيسة”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved