- فتوی نمبر: 26-136
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ علی المعاصی
استفتاء
میں سوئیڈن میں رہتا ہوں اور فوڈ ڈیلیوری کی نوکری کرنا چاہتا ہوں یعنی کسی بھی ریسٹورنٹ سے فوڈ وصول کرکے گاہک تک پہنچانا،فوڈ ہر طرح کا ہوسکتا ہےیعنی حلال بھی اور حرام بھی ۔بہت سی کمپنیاں ڈیلیوری کا کام کرتی ہیں جیسے Uber eat وغیرہ گزارا نوکری کے بغیر بھی ہو رہا ہے لیکن تھوڑی مشکل ہوتی ہے۔آپ کا بہت شکریہ اگر آپ اس مسئلہ کے بارے میں مجھے بتائیں کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر گزارہ ہورہا ہے تو مذکورہ کام نہ کیا جائے اور اگر مجبوری ہوتو گنجائش ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ریسٹورنٹ کا مالک یا خریدارمسلمان نہ ہو،لہٰذاجس صورت میں آپ کو یقینی علم ہو کہ ڈبہ میں حرام کھانا ہے اور اس کاخریدار مسلمان ہے یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہے تواس صورت میں کھانا ڈیلیور کرنا جائز نہیں۔
توجیہ:مذکورہ سوال سوئیڈن سے متعلق ہے جو کہ دارالحرب ہے اور امام صاحب کے نزدیک حربی اور ذمی کافر جبکہ صاحبین کے نزدیک حربی کافر مخاطب بالفروع نہیں ہیں اس لئے شراب یا حرام کھانے ان کے حق میں معصیت نہیں ہیں لہذا مذکورہ صورت میں مسلمان کا ان کو یہ چیزیں اجرت پر سپلائی کرنا اعانت علی المعصیت کی صورت نہیں بنے گی لہذا یہ صورت جائز ہوگی اور جس صورت میں خریدار مسلمان ہو یا ریسٹورنٹ کا مالک مسلمان ہواور سپلائی کرنے والے کو معلوم بھی ہو کہ ڈبہ میں حرام چیز ہے تو یہ صورت اعانت علی المعصیت کی بنے گی اور ناجائز ہوگی۔
المحیط البرھانی(347/11) میں ہے:
وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما.والوجه لأبي حنيفة فيما إذا نص على الشرب، إن هذه إجارة وقعت لأمر مباح؛ لأنها وقعت على حمل الخمر ليشربها الذمي، أو وقعت على الدار ليبيع الذميّ وشرب الخمر مباح؛ لأن خطاب التحريم كأنه غير نازل في حقه.
وهذا بخلاف ما إذا استأجر الذمي من المسلم بيتاً يصلي فيه حيث لا يجوز؛ لأن ثمة صفة المعصية، إذا أمنت في حقه لديانته تبقى صفة الطاعة و الاستئجار على الطاعة لا يجوز ومعنى صفة المعصية متى انتفت عن الشرب لديانته بقي فعلاً مباحاً في نفسه ليس بطاعة فتجوز الإجارة، وفيما إذا لم ينص على الشرب، فالوجه له أن الخمر كما يكون للشرب وإنه معصية في حق المسلم يكون للتخليل، وإنه مباح للكل فإذا لم ينص على الشرب يجب أن يجعل التنقل للتخليل حملاً لهذا العقد على الصحة.وهو نظير ما لو استأجر الذميّ من المسلم بيتاً ولم يقل ليصلى فيه، فإنه يجوز، وإن كان له أن يصلي فيه ويتخذه بيعة وكنيسة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved