• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گندم کی دیکھ بھال کرنے پر نفع میں سے فیصد طے کرنے کا حکم

استفتاء

آج گندم کا ریٹ 3500 روپے ہے، اگر کسی کو گندم  لے کر دیں اور اس کو یہ کہیں کہ آپ نے ہر لحاظ سے اس کا خیال رکھنا ہے  اور ہم اسے دو ماہ یا پانچ ماہ بعد بیچیں گے تو میں آپ کو  نفع میں سے دس فیصد دوں گا   تو اس بارے میں  شرعی حکم کیا ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے: گندم بعد میں خریدنے والا خو د بیچے گا اور دوسرا شخص صرف حفاظت کرے گا؟ یا کوئی اور صورت ہے؟ اگر دوسری صورت ہے تو وہ کیا ہے؟

جواب وضاحت: جی مالک خود آٹا بنا کر بیچے گا۔

مزید وضاحت : آپ  کے علاقے میں مذکورہ صورت کا عرف ہے یعنی عام طور پر لوگ ایسا معاملہ کرتے ہیں ؟

جواب وضاحت : لوگوں کا تو پتہ نہیں میں  کر رہا ہوں ۔

مزید تنقیح : سائل کے علاقے کے دیگر لوگوں سے معلومات لی ہیں   جن کے مطابق عرف نہیں ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ معاملہ جائز نہیں  کیونکہ اجرت مجہول ہے کہ نہ معلوم کتنی ہو  ،  اس کی جائز صورت یہ ہے کہ یا تو اس کی متعین مدت کے حساب سے متعین  اجرت طے کی جائے یا پہلے سے ہی بطور اجرت اس کو کچھ  گندم الگ کر کے  دے دیں  وہ اس کا مالک بن جائے پھر جو چاہے کرے، البتہ اگر کسی علاقے میں مذکورہ صورت کا عرف ہوجائے تو مذکورہ صورت کی گنجائش ہوگی  کیونکہ جہالت کے بارے میں ضابطہ ہے کہ جہالت وہ مفسد عقد ہوتی ہے جو مفضی الی النزاع ہو اور جس صورت کا عرف ہوجائے تو وہ صورت مفضی الی النزاع نہیں رہتی  لہذا   عرف ہونے کی صورت میں مذکورہ صورت کی گنجائش ہوگی ۔

شامی (6/46) میں ہے:

(‌تفسد ‌الإجارة ‌بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل

شامی (6/5) میں ہے:

‌وشرطها ‌كون ‌الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

شامی (9/97) میں ہے:

(‌ولو) (‌دفع ‌غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولا

(قوله والحيلة أن يفرز الأجر أولا) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى

شامی (6/ 53) میں ہے:

«ووجهه ‌أن ‌العادة ‌لما جرت بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد لم تكن الجهالة مفضية إلى النزاع، والجهالة ليست بمانعة لذاتها بل لكونها مفضية إلى النزاع»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved