- فتوی نمبر: 26-143
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > عملیات، تعویذات اور جادو و جنات
استفتاء
ایک بندہ ہر بیماری کیلئے دم کرتا ہے اور جو لوگ اس کے پاس دم کروانے کیلئے آتے ہیں ان کو دین کی دعوت بھی دیتا ہے، اور نماز روزے کی تلقین بھی کرتا ہے لیکن وہ یہ دم مسجد میں کرتا ہےاورجب اس کو یہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے تو مسجد کو علاج معالجہ کیلئے مقرر کر لیا ہےیہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر یا طبیب مسجد میں علاج معالجے کیلئے بیٹھ جائےتو وہ اس کے جواب میں کہتا ہےکہ یہ دم اصل کے اعتبار سےروحانی علاج ہےاور تبعاًجسمانی ہے اور روحانی علاج مسجد میں منع نہیں ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کیا اس کو روحانی علاج کہنا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دم کرنے کو روحانی علاج کہنا یا سمجھنا حقیقت سے بے خبری اورجہالت ہے اورمسجد میں بیٹھ کر دم وغیرہ کرنا درست نہیں۔
فتاوی ہندیہ(9/109)میں ہے:
’’رجل يبيع التعويذ في المسجد الجامع ويكتب في التعويذ التوراة والإنجيل والفرقان ويأخذ عليه المال ويقول:ادفع إلي الهدية لا يحل له ذلك، كذا في الكبرى.ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد‘‘
اشرف العملیات(ص:39)میں ہے:
’’عملیات میں ایک بات قابل لحاظ یہ ہے کہ جو عملیات دنیا کے واسطے ہوتے ہیں وہ موجب ثواب نہیں ہوتے ہیں (یعنی ان کے کرنے میں ثواب نہیں ملتا)۔ ان میں ثواب کا اعتقاد رکھنا بدعت ہے۔اسی طرح ایسے عملیات کو مسجد میں بیٹھ کر نہ پڑھنا چاہیے اور نہ اس قسم کے تعویذ مسجد میں بیٹھ کر لکھنے چاہیے۔ کیوں کہ اگر تعویذپر اجرت لی جائے تو یہ تجارت ہے جس کو مسجد سے باہر کرنا چاہیے۔۔۔اور اگر مسجد میں بیٹھ کر اپنے لیے کوئی عمل کیا جائے تو یہ تجارت تو نہیں ہے مگر ہے دنیا کا کام وہ بھی مسجد میں نہ ہونا چاہیے۔‘‘
اشرف العملیات(ص:19)میں ہے:
’’تعویذ اور علاج میں میرے نزدیک تو کوئی فرق نہیں، دونوں ہی دنیوی فن ہیں، عوام اس میں فرق سمجھتے ہیں کہ تعویذ کرنے والے کی بزرگی کے معتقد ہوتے ہیں اور کسی ڈاکٹر، طبیب کو بزرگ نہیں سمجھتے۔عوام کی وجہ فرق یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ڈاکٹر کے علاج کو دنیوی کا م سمجھتے ہیں اور عامل کے علاج کو دینی کام خیال کرتے ہیں۔ اور عوام کا یہ خیال اس وجہ سے ہے کہ عملیات کا تعلق امورِ قدسیہ سے ہے، یہ سب جہالت اور حقیقت سے بے خبری ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved