- فتوی نمبر: 35-386
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > الاجیر الخاص
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس بارے میں کہ اگر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کوئی کمپنی ایک شخص کو ہائر کرتی ہے اور اس سے یہ معاملہ طے کرتی ہے کہ تمام سسٹم اور مشینری ہم انسٹال کریں گے اور جملہ قسم کی فنی ضرورت کی تکمیل بھی ہماری ذمہ داری ہوگی نیٹ فراہم کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہوگا ، اس شخص کا کام افراد اور اداروں سے جا کر فیس وصول کرنا ہوگا اور ایک طے شدہ تناسب سے اس فرد کو اجرت دی جائے گی ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کے لیے انٹرنیٹ کی فیس کی وصولی کا عمل اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ شخص کے لیے فیس کی وصولی کرنا جائز ہے، اور تنخواہ بھی حلال ہے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں اول تو اس شخص کا کام انٹر نیٹ سروس فراہم کرنا نہیں ہے وہ کمپنی خود کرے گی بلکہ سروس استعمال کرنے کے بعد ذمہ میں آنے والی فیس کی وصولی ہے لہذا یہ صورت انٹر نیٹ کے استعمال میں اعانت کی نہیں بنتی نیز اگر اعانت تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی انٹر نیٹ کا حکم سلاح کا ہے جس کا صحیح اور غلط دونوں طرح کا استعمال ممکن ہے اور چونکہ عموما یقینی طور پر کسی شخص کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس کا غلط استعمال کرے گا لہذا سروس مہیا کرنا اور اجرت لینا پھر بھی جائز ہوگا۔
شرح مختصر الطحاوی للجصاص (8/506) میں ہے:
قال: (وكره بيع السلاح من أهل الفتنة، وفي عساكر الفتنة، ولا بأس ببيعه في الأمصار، وممن لا نعرفه من أهل الفتنة).وكل ذلك لأن في بيعه من أهل الفتنة معونة لهم عليها، كما يكره بيع السلاح من أهل الحرب وأما بيعه في الأمصار: فلا بأس به؛ لأن أمرهم محمول على الجواز والصحة، كما أن من رأيناه من أهل المصر لا يجوز أن نظن به أنه من أهل الفتنة ما لم نتيقن.
الہدایہ شرح البدایہ (4/94) میں ہے:
قال: “ويكره بيع السلاح في أيام الفتنة” معناه ممن يعرف أنه من أهل الفتنة؛ لأنه تسبيب إلى المعصية وقد بيناه في السير، وإن كان لا يعرف أنه من أهل الفتنة لا بأس بذلك؛ لأنه يحتمل أن لا يستعمله في الفتنة فلا يكره بالشك.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved