- فتوی نمبر: 35-389
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مفتی صاحب ! یہ میری خالہ کے گھر کا مسئلہ ہے ۔ زید اور خالد دو بھائی تھے اور ان کی دو بہنیں تھیں۔زید کے نام پانچ مرلے جگہ تھی جہاں وہ رہائش پذیر تھے ۔ اس میں سے ڈھائی مرلے انہوں نے اپنے بھائی خالد کو ایک لاکھ روپے میں بیچ دیے۔90,000 (نوے ہزار)روپے وصول کر لیے ۔ اور دس ہزار روپے کے متعلق یہ طے ہوا کہ جب جگہ کا انتقال رجسٹری ہوگا اس وقت ادائیگی کریں گے ۔ اور اس بات پر اسٹام پیپر بھی موجود ہے۔پہلے ایک بہن کا انتقال ہو گیا پھر زید بھی فوت ہوگئے ۔ان کے بعد دوسری بہن کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کے ورثاء میں ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے شوہر پہلے ہی وفات پاچکے تھے ۔ اب صرف ایک بھائی(خالد ) حیات ہیں جنہوں نے ڈھائی مرلہ جگہ خریدی تھی ۔ دونوں بہنوں کی اولادیں بھی موجود ہیں اور زید کی صرف ایک بیٹی ہے اور ایک بیوی ہے۔ خالد نے مرحوم بھائی کی بیوہ اور بیٹی سے کہا ہے کہ مُجھے انتقال دےدو تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے بہنوں کے حصے نکالو تب انتقال دیں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ 5مرلے تو رجسٹری والے ہیں لیکن آگے فرنٹ پر بھی 5مرلے ہیں جو قبضے کے ہیں وہاں دکانیں بنی ہوئی ہیں ۔ یہ سرکاری جگہ پر قبضہ ہے جو پچھلے بیس سال سے اسی طرح چلا آرہا ہے۔ دونوں بھائیوں نے اپنے ڈھائی مرلہ کے آگے کی خالی جگہ پر مزید ڈھائی مرلہ قبضہ کیا ہوا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ (1) ان کی بہنیں جو فوت ہو چکی ہیں انکا شرعاً حصہ بنے گا یا نہیں ؟(2)اگر بنے گا تو کس جگہ سے بنے گا جو 5مرلے نام ہیں ان سے یا جو 5مرلے آگے بڑھے ہیں ان سے ؟ تفصیل سے وضاحت فرما دیں جزاک اللّہ خیرا کثیرا
دارالافتاء کی طرف سے فریقین سے رابطہ کیا گیا تو خالد کی طرف سے ان کے بیٹے عمر نے اور زید مرحوم کی طرف سے ان کے داماد واجد نے اپنا بیان دیا جو کہ درج ذیل ہے :
واجد کا بیان :
یوسف صاحب مرحوم نے اپنے مکان کا کوئی حصہ ان کو فروخت نہیں کیا تھا ان لوگوں نے اس پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ہمارا عدالت میں کیس بھی چل رہا ہے ۔ نیز جس سٹام کا یہ لوگ حوالہ دیتے ہیں وہ جعلی ہے ۔
عمر کا بیان :
میرے والد صاحب فراش ہیں اور ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں اس لیے میں ہی ان کی طرف سے عدالت میں بھی پیش ہوتا ہوں ۔ ہمارے تایا زید مرحوم نے ڈھائی مرلہ والد صاحب کو فروخت کیے تھے اور شروع دن سے ہی قبضہ دےدیا تھا ۔ یہ معاملہ 2001 میں ہوا تھا ۔ جبکہ واجد اس کے پندرہ سولہ برس بعد ان کے داماد بنے ہیں ان کی بات کا کیا اعتبار ہے ۔ ان کی ساس یعنی ہماری تائی بھی ان کو کہہ چکی ہیں کہ ان لوگوں کا حق ان کو دو۔ نیز ہمارے درمیان پنچایت میں بھی فیصلہ ہوا جس میں فریق اول واجد تھے اور فریق دوم میں تھا ۔ وہاں پنچایت کے اس فیصلہ پر بلال کے دستخط بھی موجود ہیں کہ یہ ہمیں اس جگہ کی رجسٹری بنوا کر دیں گے ۔ اسٹام اور پنچایت کے فیصلہ کی تصویر واٹس ایپ کردی ہے ۔
پنچایت کے فیصلہ کی متعلقہ عبارت :
آج مورخہ 2026-04-20 پنچایت میں یہ فیصلہ ہوا ہےکہ زید مرحوم کے وارثان ڈھائی مرلہ رقبہ جو اشٹام کیا ہوا ہے اور پیسے لے چکے ہیں اس کی رجسٹری کروائیں گے اور دونوں فریق انتقال رجسٹری کا خرچہ اپنا اپنا خود اٹھائیں گے ۔
فریق اول محمد بلا ل : دستخط ………. فریق دوم حمزہ یونس: دستخط ……
نوٹ: واجد سے دوبارہ رابطہ کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) جو بہن اپنے بھائی زید کی زندگی میں فوت ہوئی ہے اس کا یا اس کے ورثاء کا زید کی جائیداد میں وغیرہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے البتہ جو بہن اپنے بھائی زید کی وفات کے بعد فوت ہوئی ہے اس کا زید کی جائیداد میں حصہ ہے اور اس کا حصہ اس کے ورثاء (دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم ہوگا )۔یعنی اس کے پانچ حصے کرکے دو دو حصے ہر بیٹے کو ملیں گے اور ایک حصہ بیٹی کو ملے گا ۔
(2) جو ڈھائی مرلے نام ہیں ان میں سے حصہ بنے گا اور اسی طرح جو ڈھائی مرلے قبضہ کی جگہ ہے اس میں سے بھی بنے گا ۔
نوٹ:جو ڈھائی مرلے خالد نے اپنے بھائی سے خرید لیے تھے وہ اور اس کے سامنے قبضہ کی جگہ وہ صرف خالد کے شمار ہوں گے ان میں کسی اور کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
توجیہ :اولاً مذکورہ صورت میں مرحوم بھائی کا اپنے مکان میں سے ایک مشاع حصہ بغیر تعیین کے بیچنا درست تھا کیونکہ عقد میں اس حصہ کی مقدار واضح تھی کہ پانچ مرلہ جگہ میں سے اڑھائی مرلہ فروخت ہوگی ۔ثانیاً حکومت کی جو زمینیں عام لوگوں کے قبضوں میں ہوتی ہیں، وہ اگرچہ اصلاً تو حکومت کی ملکیت ہوتی ہیں مگر چونکہ عام طور پر حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی اور لوگ ہمیشہ ان زمینوں پر مالکانہ تصرفات مثلاً تعمیرات بیع و اجارہ وغیرہ کرتے رہتے ہیں اور عملاً انہیں اپنی ملکیت ہی سمجھا جاتا ہے اس لیے ان زمینوں پر وراثت بھی جاری ہوتی ہے۔
درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام (1/ 162)میں ہے:
( المادة 214 ) : بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح . مثال ذلك : إذا باع إنسان من آخر حصته في الدار الفلانية فإذا كان الآخر عالما بمقدار حصته في تلك الدار فالبيع صحيح إن كان البائع أيضا عالما بمقدار حصته أو مصدقا للمشتري فيما بينه من مقدار حصته أما إذا كان المشتري لا يعرف الحصة فالبيع غير صحيح سواء أكان البائع يعرف تلك الحصة أم لا يعرفها ( الهندية ) ( انظر المادة 200 )
احکام الاوقاف للخصاف(ص: 34) میں ہے:
إن كانت الأرض اجارة في أيدي القوم الذين بنوها لا يخرجهم السلطان عنها فالوقف جائز فيها من قبل أنا قد رأيناها في أيدي أصحاب البناء يتوارثونها وتقسم بينهم لا يتعرض لهم السلطان فيها ولا يزعجهم عنها وإنما له عليهم غلة يأخذها منهم قد تداولتها أيدي الخلف عن السلف ومضى عليها الدهور وهي في أيديهم يتبايعونها ويؤجرونها وتجوز فيها وصاياهم ويهدمون بناءها ويغيرونه ويبنون غيره فكذلك الوقف فيها جائز .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved