- فتوی نمبر: 35-393
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سنن و مستحبات نماز کا بیان
استفتاء
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے کہ اونٹ بیٹھتا ہے چاہئے کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔(سنن ابی داؤد:840)
صحیح طریقہ:اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔پہلے ہاتھ ،پھر گھٹنے ،پھر سجدہ۔
غلط طریقہ:گھٹنے پہلے رکھنے سے بچیں(اونٹ کی طرح)۔
اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسنون طریقہ یہی ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے پہلے اپنے گھٹنے رکھے جائیں اور پھر اپنے ہاتھ رکھے جائیں،اس کی دلیل مندجہ ذیل روایات ہیں:
سنن ابی داؤد (رقم الحدیث: 838) میں ہے:
عن وائل بن حجر، قال: رأيت النبى صلى الله عليه وسلم إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدے کے لیے جاتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب (سجدے سے ) اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
سنن ترمذی(رقم الحديث: 268) میں ہے:
عن وائل بن حجر، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه، وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه.
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر ؓفرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو (زمین پر) اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب آپ (سجدہ سے) کھڑے ہوتے تواپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین سے) اٹھاتے۔
مصنف ابن ابی شیبہ(رقم الحدیث: 2728 )میں ہے:
حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم: أن عمر كان يضع ركبتيه قبل يديه.
ترجمہ:حضرت ابراہیم ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ(سجدےمیں جاتے ہوئے) اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ(رقم الحدیث: 2734)میں ہے:
حدثنا وكيع عن مهدي بن ميمون قال: رأيت ابن سيرين يضع ركبتيه قبل يديه.
ترجمہ:مہدی بن میمونؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین ؒ کو (سجدےمیں جاتے ہوئے)اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
باقی سوال میں ذکر کردہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول روایت مرجوح ہے اور حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت کو علماء نے متعدد وجوہات سے راجح قرار دیا ہے ،چنانچہ زاد المعادلابن القيم (1/ 263)میں ہے:
وحديث وائل بن حجر أولى لوجوه:
أحدها: أنه أثبَتُ من حديث أبي هريرة، قاله الخطابي وغيره.الثاني: أن حديث أبي هريرة مضطرب المتن كما تقدَّم. فمنهم من يقول فيه: «وليضَعْ يديه قبل ركبتيه»، ومنهم من يقول بالعكس، ومنهم من يقول: «وليضع يديه على ركبتيه»، ومنهم من يحذف هذه الجملة رأسًا.الثالث: ما تقدَّم من تعليل البخاري والدارقطني وغيرهما له.الرابع: أنه على تقدير ثبوته قد ادعى فيه جماعة من أهل العلم النسخ، قال ابن المنذر وقد زعم بعض أصحابنا أن وضع اليدين قبل الركبتين منسوخ، وقد تقدَّم ذلك.الخامس: أنه الموافق لنهي النبيِّ صلى الله عليه وسلم عن بروك كبروك الجمل في الصلاة، بخلاف حديث وائل بن حُجْر(لعل الصواب حديث ابي هريرة،از ناقل).السادس: أنه الموافق للمنقول عن الصحابة كعمر بن الخطاب، وابنه ،وعبد الله بن مسعود. ولم ينقل عن أحد منهم ما يوافق حديث أبي هريرة إلا عن ابن عمر على اختلاف عنه.السابع: أن له شواهد من حديث ابن عمر وأنس كما تقدم، وليس لحديث أبي هريرة شاهد فلو تقاوَما لقُدِّم حديثُ وائل بن حُجْر من أجل شواهده، فكيف وحديث وائل أقوى كما تقدَّم..الثامن: أن أكثر الناس عليه، والقول الآخر إنما يُحفَظ عن الأوزاعي ومالك. وأما قول ابن أبي داود: إنه قول أهل الحديث، فإنما أراد به بعضهم، وإلا فأحمد وإسحاق والشافعي على خلافه. والله أعلم.التاسع: أنه حديث فيه قصَّة محكيَّة سبقت حكايةَ فعلِه صلى الله عليه وسلم، فهي أولى أن تكون محفوظة؛ لأن الحديث إذا كان فيه قصة دلَّ على أنه حُفِظ.العاشر: أنَّ الأفعال المحكية فيه كلَّها ثابتة صحيحة من رواية غيره، فهي أفعال معروفة صحيحة، وهذا واحد منها، فله حكمها. ومعارضُه ليس مقاومًا له، فيتعيَّن ترجيحُه. والله أعلم.
ترجمہ:حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت متعدد وجوہات سے اولی (اور راجح)ہے۔
اول:حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ثبوت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے ثبوت سے زیادہ مضبوط ہے ۔دوم:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے متن میں اضطراب ہے،سو بعض راوی “وليضَعْ يديه قبل ركبتيه” کے الفاظ روایت کرتے ہیں اور بعض ان الفاظ کے برعکس روایت کرتے ہیں اور بعض ” وليضع يديه على ركبتيه “کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور بعض اس جملے کو سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے۔سوم: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو امام بخاری،امام دارقطنی وغیرہ نے معلل قرار دیا ہے۔چہارم: اگر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو ثابت بھی مان لیں توبھی اہلِ علم کی ایک جماعت، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے منسوخ ہونے کی قائل ہے(چنانچہ) ابن منذرؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے رکھنا منسوخ ہوچکا ہے۔پنجم: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت، حدیث میں موجود اس نہی کے موافق ہے جس میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے برخلاف ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے (کہ وہ اس نہی کے خلاف ہے)۔ششم: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت ان روایات کے موافق ہے جو صحابہؓ جیسے حضرت عمر،حضرت عبد اللہ بن عمر،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے موافق روایت صرف عبد اللہ بن عمرؓ سے (اختلاف کے ساتھ)مروی ہے ۔ہفتم: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت کی شاہد روایات موجود ہیں جو حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت انس رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کا کوئی شاہد موجود نہیں لہذا اگر دونوں کا تقابل کیا جائے تو حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت اپنے شواہد کی وجہ سے مقدم ہوگی اور کیسے(مقدم )نہ ہو حالانکہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت زیادہ قوی بھی ہے۔ہشتم:اکثر حضرات کا قول بھی یہی ہے (جو حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت کے موافق ہے) اور دوسرا قول صرف امام اوزاعیؒ اور امام مالکؒ کاہے باقی رہی ابن ابی داؤدؒ کی بات کہ یہ محدثین کا(بھی)قول ہے تو ان کی مراد بعض محدثین ہیں ورنہ امام احمد بن حنبلؒ ،امام اسحاقؒ اور امام شافعیؒ کا قول اس کے خلاف ہے۔نہم: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت میں حضورﷺکے ایک فعل کو نقل کیا گیا ہے تو یہ اس کے زیادہ لائق ہے کہ وہ (روایت)محفوظ ہے اس لیے کہ کسی حدیث میں کوئی واقعہ بیان ہوا ہو تو وہ اس روایت کے محفوظ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔دہم:(حضورﷺ کی نماز کے) افعال جو حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایات میں منقول ہیں وہ سب کے سب ثابت ہیں ،دیگر روایات سے صحیح ہیں سو یہ معروف (اور) صحیح افعال ہیں اور یہ بھی ان میں سے ایک فعل ہے لہذا اس کا بھی یہی حکم ہوگا اور اس کے مخالف روایت اس کے مقابلے کی نہیں اس لیے (ان متعدد وجوہ سے)حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت راجح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved