• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رضاعی بھائی یا رضاعی بہن کے حقیقی بہن بھائیوں سے نکاح کا حکم

استفتاء

بکر اور ربیعہ نے ایک دوسرے کی ماں کا دودھ پیا ہے اب ان  کے بعد بکر کا ایک اور بھائی پیدا ہوا زید اور ربیعہ کی ایک اور بہن پیدا ہوئی ثانیہ انہوں نے ایک دوسرے کی ماں کا دودھ نہیں پیا کیا اب زید اور ثانیہ آپس میں نکاح کر سکتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید اور ثانیہ آپس میں نکاح کر سکتے ہیں ۔

توجیہ:چونکہ مذکورہ صورت میں صرف بکر اور ربیعہ نے ایک دوسرے کی ماں کا دودھ پیا ہے  اس لیے رضاعت کا رشتہ بھی انہی کا قائم ہوا ہے لہٰذا  بکر پر ربیعہ کی بہنیں اور ربیعہ پر بکر کے بھائی حرام ہوں گے  تاہم ان دونوں کے دوسرے بہن بھائی آپس میں نکاح کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا آپس میں رضاعت کا رشتہ نہیں ہے۔

الدر المختار (4/398) میں ہے :

(‌وتحل ‌أخت ‌أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.

شامی (4/399) میں ہے :

في البحر عن آخر المبسوط: ‌لو ‌كانت ‌أم ‌البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها لأنها أختهم من الرضاعة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved