- فتوی نمبر: 26-236
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک سوال کی بابت دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہماری والدہ سے پہلے ہوچکا تھا اور والدہ نے اپنے بعد ایک مکان چھوڑا ہے جس کی مالیت 12500000 (ایک کروڑ پچیس لاکھ) روپے ہے اور وہ والدہ کے نام اور ان کی ملکیت میں تھا اب والدہ کی وفات کے بعد یہ مالیت ہم بہن بھائیوں کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟
اولاد کی تفصیل: پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں زندہ ہیں جن کے نام یہ ہیں زید ، خالد ، عمر ، بکر ، واجد ، زینب ، خدیجہ ، کلثوم ، عائشہ ۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی والدہ سے پہلے فوت ہوگئے تھے جن کے نام یہ ہیں بیٹا: ضیاء ، بیٹی:فاطمہ
نوٹ: والدہ کے والدین یعنی ہمارے نانا اور نانی کا بھی ہماری والدہ سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔
وضاحت مطلوب: یہ مکان مرحومہ کی ملکیت میں کیسے آیا؟
جواب وضاحت: یہ مکان جب بنایا گیا تھا تو اس میں کچھ رقم تو ہمارے والد کی تھی باقی بڑے بھائیوں کی تھی اس وقت سب بہن بھائیوں اور والد کی رضامندی سے یہ طے ہوا تھا کہ یہ مکان والدہ کے نام ہوگا اور انہی کا شمار ہوگا اب بھی کسی وارث کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے فتوی لینے کا مقصد یہ ہے کہ اب مکان تقسیم کرنا ہے، پٹواری نے کہا ہے فتوی لے آئیں اس کے مطابق میں تقسیم کردوں گا۔ ذیل میں تمام وارثوں کے تائیدی دستخط موجود ہیں۔
1) زینب
2) خدیجہ
3) کلثوم
4) رضوان(ضیاءمرحوم کے بیٹے کے دستخط)
5) زید
6) خالد
7) قاسم (فاطمہ مرحومہ کے شوہر کے دستخط)
8) عمر
9)عائشہ
10) بکر
11) واجد
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ کے ترکہ 12500000 (ایک کروڑ پچیس لاکھ) روپے کے کل چودہ حصے کریں گے جن میں سے 2،2 حصے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو ملے گا لہذا مذکورہ رقم میں سے ہر بیٹے کو 1785714 روپے ملیں گے۔ اور ہر بیٹی کو 892857 دیے جائیں گے۔
نوٹ: والدہ کی زندگی میں جس بیٹے اور بیٹی کا انتقال ہوا تھا ان کا یا ان کی اولاد کا مرحومہ کے ترکہ میں شرعا حصہ نہیں بنتا۔ تاہم دیگر ورثاء اپنی رضامندی سے اگر انہیں بھی حصہ دینا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved