- فتوی نمبر: 26-260
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بیٹا وفات پا گیا ہے ۔وہ گورنمنٹ ہسپتال میں ڈاکٹر تھا اور یہ اس کی مستقل نوکری تھی۔اس کی وفات سے دس ماہ پہلے شادی ہوئی تھی ۔اس کے ورثاء میں اس کے والدین،بیوی اور چار بہنیں حیات ہیں ۔میرا بیٹا ڈاکٹر تھا لیکن جسمانی معذور تھا ،اپنی ویل چیئر پر اس نے تمام تعلیم حاصل کی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ڈاکٹر بنا اب دو باتیں دریافت طلب ہیں ۔
1۔اس کے نام مکان کا کچھ حصہ ہے اورجس بینک میں اس کی تنخوا ہ آتی تھی اس میں اس کی کچھ رقم جمع ہے ،ان کو وراثت میں کیسے تقسیم کیا جائے گا؟
2۔اس کو گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ اور مختلف مدوں میں کچھ رقم آتی رہتی ہے ان کا کون حق دار ہے؟
گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی رقوم کی تفصیل درج ذیل ہے:
1) چار مہینے(عدت) کی تنخواہ۔
2) لیو انکیشمنٹ۔
3) جی پی فنڈ۔
4) گروپ انشورنس۔
5) فوری مالی امداد۔
6) پوری تنخواہ(گورنمنٹ کے نئے قانون کے مطابق سرکاری ملازم کے دوران سروس فوت ہونے کی صورت میں بیوہ کو ملازم کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک پوری تنخواہ ملتی رہے گی۔ریٹائرمنٹ کی تاریخ کے بعد پنشن اور گریجویٹی ملے گی۔)
7) کفن دفن گرانٹ۔
8) ماہانہ امداد۔
9)الوداعی گرانٹ
نوٹ:گورنمنٹ اپنے کاغذوں میں سب کچھ بیوہ کو دیتی ہے بوڑھے والدین یا کسی اور رشتہ دار کو کچھ نہیں دیتی۔اس کی بھی وضاحت کی ضرورت ہے کیونکہ بوڑھے والدین نے اپنے بیٹے کی بہت زیادہ خدمت کر کے اس کو سنبھال سنبھال کر تعلیم دلوائی ہے۔
تنقیحات:
1۔والدین کی محلے میں دکانیں ہیں جن سے ان کو کرایہ آتا ہے لیکن وہ گزر بسر کیلئے نا کافی ہے۔
2۔ مرحوم کی ایک بہن معذور ہے جو والدین کے پاس ہی رہتی ہے اور باقی بہنوں کی وفات سے پہلے ہی شادی ہو چکی تھی۔
3۔ بیٹے کی زندگی میں گھر کا خرچہ دکانوں کے کرائے اور بیٹے کی تنخواہ سے مل کر چلتا تھا ۔
4۔ مکان کا جو حصہ اس کے نام ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ جگہ مجھے (والد) وراثت میں ملی تھی تو میں نے ارادہ کیا کہ کاغذات میں بیوی کا نام لکھ دوں لیکن اس وقت میری بیوی نے کہا کہ میرے نام نہ کریں بچوں میں سے کسی کے نام کر دیں تو میں نے آدھی جگہ اپنے اس معذور بیٹے اور آدھی اپنی معذور بیٹی کے نام کر دی اور ان دونوں سے کہا کہ ابھی تو تمہارے نام کر رہا ہوں لیکن بعد میں ہم اسے باہمی رضامندی سے سب میں تقسیم کردیں گے اور میرا ان دونوں کو ہدیہ کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ میں یہ جگہ اپنے سب بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔اس ساری بات کا مرحوم بیٹے کو علم بھی تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ مکان کا جو حصہ مرحوم کے نام ہے وہ والد کا ہی ہے کیونکہ والد کاوہ حصہ اس کے نام کرنے سے اس کو ہدیہ کرنا مقصود نہیں تھا۔اور مذکورہ رقم کے کل 12 حصے کر کے ان میں سے 3 حصے (25%) بیوہ کو،2 حصے(16.67%) ماں کو اور 7 حصے(58.33%) والد کو ملیں گےاور بہنوں کو والد کے موجود ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا۔
2۔حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے فنڈز اور رقوم میں ضابطہ یہ ہے کہ ان میں سےجو مرحوم کی وفات کے وقت ان کی ملک میں تھیں یا جن میں ان کا حق ثابت ہو چکا تھا ان میں تو وراثت جاری ہو گی، قطع نظر اس سے کہ حکومت ان کو کس کے نام جاری کرتی ہے۔ جبکہ وہ رقوم اورفنڈز جوحکومت کی جانب سے ہمدردانہ بنیادوں پر ديے جاتے ہیں وہ حکومت کی پالیسی کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ان میں سے جن فنڈز کے بارے میں حکومت کی پالیسی بیوہ کو دینے کی ہو تو اس فنڈ میں محض بیوہ کا حق ہے اور وہ فنڈز جن کے بارے میں حکومت کی پالیسی زیر کفالت افراد کو دینے کی ہو تو وہ فنڈز مرحوم کے زیر کفالت افراد کا حق ہیں اور مذکورہ صورت میں حکومت کی پالیسی کے مطابق مرحوم کے زیر کفالت صرف اس کی بیوی ہے اس لیئے یہ رقوم اور فنڈز بھی بیوہ کو ملیں گےالبتہ اگر بیوہ دوسری شادی کر لے تو پھر یہ رقوم مرحوم کے والدین اور غیر شادی شدہ بہن میں برابر تقسیم ہوں گی۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں بیوہ کیلئے اخلاقی طور پر بہتر یہ ہے کہ جس طرح اس کا خاوند اپنی زندگی میں اپنے والدین کے ساتھ گھر کے خرچے میں تعاون کرتا رہا اسی طرح اگر ممکن ہو تویہ بھی ان کے ساتھ تعاون کرتی رہے۔
مذکورہ ضابطے کے تحت مذکورہ صورت میں جو رقوم وصول ہوئی ہیں وہ تین طرح کی ہوں گی۔
( 1) صرف بیوہ کو ملنے والی رقوم۔
( 2) میت کے زیر کفالت افراد میں برابر تقسیم ہونے والی رقوم (جو کہ مذکورہ صورتحال میں صرف بیوہ کو ملیں گی)۔
( 3) وراثت میں جاری ہو نے والی رقوم۔
تفصیل درج ذیل ہے۔
1۔بیوہ کو ملنے والی رقم:
(i)چار مہینے کی تنخواہ
2۔زیر کفالت افراد کو ملنے والی رقوم(جو کہ مذکورہ صورتحال میں صرف بیوہ کو ملیں گی):
(i)۔فوری مالی امداد (ii)۔پوری تنخواہ،پنشن،گریجویٹی (iii)۔ماہانہ امداد(iv)۔الوداعی گرانٹ
وراثت میں تقسیم ہونے والی رقوم:
(i)۔لیو انکیشمنٹ(ii)۔جی پی فنڈ
4۔گروپ انشورنس میں تفصیل یہ ہے کہ جتنی رقم انشورنس کی مد میں ملازم کی تنخواہ سے کٹی ہے اتنی مقدار میں تو وراثت جاری ہو گی اور اس سے زائد رقم کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر انشورنس کی رقم حکومتی ادارے کی جانب سے موصول ہوئی ہے تو زائد رقم میت کے زیر کفالت افراد میں برابر تقسیم ہو گی۔ اور اگر رقم انشورنس کمپنی کی جانب سے وصول ہوئی ہے(مثلا چیک Cheque انشورنس کمپنی نے جاری کیا ہے) تو زائد رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ہو گا۔
7۔کفن دفن کی مد میں جو رقم ملی ہے وہ اسی کو دی جائے گی جس نے وفات کے وقت کفن دفن کا انتظام کیا تھا۔ اگر وہ شخص لینے سے انکار کر دے تو یہ رقم زیرِ کفالت افراد کو دی جائے گی۔ اور اگر یہ انتظام مرحوم کے مال میں سے کیے گئے تھے تو یہ رقم بھی ترکہ میں شمار ہو گی اور اس میں وراثت جاری ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved