- فتوی نمبر: 26-294
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
زید بکر کو 60لاکھ روپے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے کاروبار کریں اور اس سے حاصل ہونےوالا نفع دونوں آپس میں 1/3 کی نسبت سے تقسیم کریں گے ۔جبکہ نقصان کا ذمہ دارصرف زید ہو گا یعنی عمرو صرف کاروبار کرے گا اور نفع میں شریک ہوگا اور نقصان میں شریک نہیں ہو گا ۔
اس مسئلے کا کیا حکم ہے؟باحوالہ جواب دیں ،شکریہ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت مضاربت کی ہے اور جائز ہے۔البتہ نقصان کے بارے میں یہ بات ملحوظ رہے کہ نقصان پہلے نفع میں سے منہا کیا جائے گا پھر نفع تقسیم ہو گا نیز اگر نقصان کام کرنے والے کی کوتاہی کی وجہ سے ہو ا تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہو گا ۔
التنویر مع الدر(8/497)میں ہے:
(هي عقد شركة في الربح بمال من جانب)رب المال(وعمل من جانب)المضارب
درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام (3/ 424)میں ہے:
(يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved