• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چوہے کے جھوٹے کتھے کو فروخت کرنے کا حکم

استفتاء

میرا پان میں لگنے والے کتھے کا کاروبار ہے ۔میں کتھا پکا کر پیک کرتا ہوں جوکہ کچھ گاڑا ہوتا ہے لیکن سیال ہوتا ہے۔وہ کتھا میں  ہول سیل کی دکانوں کو فروخت کرتا  ہوں۔

ہول سیل والے جومال  انکے پاس خراب ہوجائے وہ مجھے زبردستی فروخت کرتے ہیں کیونکہ ان کا خراب مال   کوئی ریٹیل والا   خریدے گا نہیں۔اگر میں خراب مال واپس لینے سے انکار کرتا ہوں  تو وہ آئندہ مجھ سے  مال نہیں خریدتے  بلکہ دوسرے لوگوں سے خرید لیتے ہیں جوکہ  ہر صورت میں واپس لینے کو تیار  ہیں۔

ہول سیل والوں کے پاس  پیک کتھے  کو اگر چوہا کتر جائے اور جگہ جگہ  دانت مار جائے  تو وہ اس پیک کو بھی خراب مال کہہ کر زبرستی    واپس کرتے ہیں ۔اور ایسا  وقتا فوقتا ہوتا رہتا ہے اس لیے ہر مرتبہ میرے لیے اس پیک کو ضائع کرنا بھی مشکل  ہے۔تو کیا شرعا  اس بات کی اجازت ہے کہ میں اس پیک کو کھول کر کتھے کو دوبارہ پکالوں تاکہ جراثیم مر جائیں اور پھر دوبارہ پیک کرکے بیچ  دوں یا چوہے کا جھوٹا ہونے کی وجہ سے سارا کتھا نجس ہو چکا ہے کہ اس کی فروخت جائز نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بلی،چوہا،چھپکلی وغیرہ جو جانور گھروں میں رہتے ہیں ان کا جھوٹا مکروہ ہوتا ہےلیکن نجس نہیں ہوتا۔لہذا مذکورہ صورت میں کتھے کی بیع جائز ہے۔

درمختار(1/426)میں ہے:

(وسواكن بيوت)طاهر للضرورة (مكروه )تنزيها في الأصح…….

شامی(1/426)میں ہے:

(قوله وسواكن بيوت) أي مما له دم سائل ‌كالفأرة والحية والوزغة، بخلاف ما لا دم له كالخنفس والصرصر والعقرب فإنه لا يكره كما مر، وتمامه في الإمداد (قوله طاهر للضرورة) بيان ذلك أن القياس في الهرة نجاسة سؤرها؛ لأنه مختلط بلعابها المتولد من لحمها النجس، لكن سقط حكم النجاسة اتفاقا بعلة الطواف المنصوصة بقوله – صلى الله عليه وسلم – إنها ليست بنجسة، إنها من الطوافين عليكم والطوافات ” أخرجه أصحاب السنن الأربعة وغيرهم، وقال الترمذي حسن صحيح؛ يعني أنها تدخل المضايق ولازمه شدة المخالطة بحيث يتعذر صون الأواني منها، وفي معناها سواكن البيوت للعلة المذكورة، فسقط حكم النجاسة للضرورة وبقيت الكراهة لعدم تحاميها النجاسة

شامی (7/261)میں ہے:

‌والحاصل ‌أن ‌جواز ‌البيع ‌يدور ‌مع حل الانتفاع…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved