• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصے میں تین طلاقیں دینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مؤرخہ 2مارچ 2022ء کو رات دس بجے کے قریب یہ واقعہ پیش آیا کہ میں جب دکان سے گھر واپس لوٹا تو میری سوتیلی والدہ نے میری بیوی کے خلاف شکایات کرنا شروع کردیں کہ وہ گھر کا کوئی کام نہیں کرتی،  وہ ہماری بے ادبی کرتی ہے، ہماری تربیت پر انگلیاں اٹھاتی ہے، اس وجہ سے میں اس بات پر شدید غصہ میں آگیا اور اپنی والدہ سے بولا کہ میں اپنی بیوی کو آج اس کے میکے بھیج دوں گا، اس نیت سے بولا تھا کہ وہ آج کے بعد وہاں رہے گی اور میں وہاں جاکر مل لیا کروں گا اس لئے کہ میری بیوی کی میرے گھر والوں سے نہیں بنتی تھی، میرے گھر والے اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ اس کے بعد میں نے اپنی والدہ اور اپنی بیوی کو اکٹھے بٹھا کر بات چیت کی جبکہ اس  وقت بھی میں شدید غصہ میں تھا، میری بیوی جب آئی تو میں نے غصے میں سوال کرنا شروع کردئیے اور  اس نے بھی غصے میں جوابات دینا اور اونچی آواز میں بولنا شروع کردیا، جس کی وجہ سے میری بیوی اور میرے درمیان شدید قسم کی تکرار ہوئی اور میرا ہاتھ اٹھا اور میں نے اس کو مارنا شروع کردیا،  میرے مارنے کے باوجود بھی وہ خاموش نہ ہوئی اور میں نے اس کو خاموش کروانے کے لئے یہ الفاظ بولنا چاہے کہ ’’میں تجھے طلاق دے دوں گا‘‘لیکن میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ ’’میں تجھے طلاق دیتا ہوں،میں طلاق دیتا ہوں‘‘  دو مرتبہ میں نے اپنی بیوی کو ڈرانے کے لئے یہ الفاظ بولے جب کہ میری طلا ق کی نیت نہیں تھی۔ میری والدہ کے کہے ہوئے الفاظ مجھ سے ادا ہوگئے کہ پہلے بھی لڑائی کے معاملات میں وہ کہتی ہیں   کہ ابھی یہ الفاظ بول دو اور طلاق دے دو، تو ان کی بیٹی ان کے گھر بیٹھ جائے گی، ایک دم سے اس مرتبہ  میرے منہ سے یہ الفاظ اداہوگئے ۔ ا سکے بعد میرے والد نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور مجھے کمرے سے باہر لے گئے، میری بیوی بھی میرے پیچھے کمرے سے باہر آئی اور میری والدہ کو بددعائیں دینے لگ گئی کہ آپ کی بیٹیوں کیساتھ بھی ایسا ہی ہوگا،ان کے بھی گھر برباد ہوں گے، اس بنا پر میں نے نیت کرکے تیسری مرتبہ طلاق کے الفاظ منہ سے الفاظ ادا کیے  کہ ’’میں طلاق دیتا ہوں‘‘  جب کہ پہلی دونوں مرتبہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی تیسری مرتبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد نہیں ہیں لیکن غالب گمان یہی ہے کہ الفاظ یہی تھے،  شدید ترین غصے کے باعث میری عقل بند ہوگئی تھی، لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہاہوں، اور کوئی خلاف عادت کام مثلا توڑ پھوڑ نہیں کی۔تیسری مرتبہ کے الفاظ منہ سے نکلے ہی تھے کہ میری والدہ خوشی سے جھوم اٹھی اور کہنے لگ گئی کہ طلاق ہوگئی، طلاق ہوگئی۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے یہ معاملہ غلط کردیا ہے، اس تمام واقعہ میں میری نیت ایک طلاق کی تھی لیکن الفاظ میں نے تین بار ادا کیے، کیا  تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا ایک واقع ؟ مہربانی فرماکر راہنمائی فرمائیں۔

بیوی کا بیان:

مؤرخہ یکم مارچ 2022ء کو رات دس بجے کے قریب یہ واقعہ پیش آیا کہ جب میرے شوہر دکان سے گھر واپس آئے تو میری سا س نے میرے شوہر کو میری جھوٹی شکایتیں لگانا شروع کردیں، جس کی وجہ سے میرے شوہر کو شدید غصہ آگیا ،  مجھے نیچے بلایا اور مجھ پر بھڑکنے لگے اور غصے میں سوالات کرنے لگے، میں نے کہا کہ آپ نے ان کی بات سنی میری بھی سنیں علیحدہ ہوکر، یعنی مجھے بھی موقع دیں، لیکن مجھے موقع نہیں دیا، الٹا مارنا شروع کردیا، مجھے نہیں پتہ کہ ان کی طلاق دینے کی نیت تھی یا ڈرانے کی نیت تھی لیکن میری طلاق لینے کی نیت نہیں تھی اور نہ میں اس طلاق کو مانتی ہوں، کیونکہ میں جانتی ہوں کہ وہ مجھے نہیں چھوڑ سکتے، انہیں مجبور کیا گیا ہے یعنی حالات ایسے پیدا کیے گئے، یہ سب میں اس لئے بھی جانتی ہوں کیونکہ ہماری( love marriage) ہے اور باقی میں اپنے شوہر کی تمام باتوں سے متفق ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی غصے میں اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے، غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

فتاوی شامی (4/439) میں ہے:

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله……………فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved