- فتوی نمبر: 36-42
- تاریخ: 09 جولائی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
تمہارے درمیان اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان جنگ بندی ہوگی وہ تمہیں دھوکا دیں گے اور اسی (80) جھنڈوں تلے تمہاری طرف پیش قدمی کریں گے۔ ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ:4095)
کیا اس حدیث میں وہ والی جنگ ہے جو اس وقت امریکہ اور ایران میں ہورہی ہے یا کوئی اور جنگ مراد ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو تفصیل اس حدیث میں مذکور ہے یعنی اسی (80) جھنڈوں کا ہونا اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ (12) ہزار لوگوں کا ہونا اس تفصیل کے مطابق اس سے اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ مراد لینا درست نہیں اس سے بظاہر کوئی اور جنگ مراد ہے جو ابھی تک واقع نہیں ہوئی ۔
نیز حدیث میں مذکورہ جنگ رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوگی جبکہ امریکی رومی نہیں ہیں اور ایران میں جن لوگوں کے ساتھ فی الحال جنگ ہو رہی ہے بہت سے اہل علم کے نزدیک وہ اپنے بعض مخصوص عقائد کی وجہ سے مسلمان نہیں۔
سنن ابن ماجہ (2/1371) میں ہے:
حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم قال: حدثنا الوليد بن مسلم قال: حدثنا عبد الله بن العلاء قال: حدثني بسر بن عبيد الله قال: حدثني أبو إدريس الخولاني قال: حدثني عوف بن مالك الأشجعي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تكون بينكم وبين بني الأصفر هدنة، فيغدرون بكم، فيسيرون إليكم في ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا»
فتح الباری، لابن حجر (6/ 278) میں ہے:
«وقال ابن المنير: أما قصة الروم فلم يجتمع إلى الآن ولا بلغنا أنهم غزوا في البر في هذا العدد فهي من الأمور التي لم تقع بعد
حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ، نور الدین السندی،ت:۱۱۳۸ھ (2/496) میں ہے:
(وبين بني الأصفر) هم الروم سموا بذلك لصفر اللون في آبائهم (هدنة) بضم هاء فسكون دال مهملة الصلح (في ثمانين غاية) الغاية بمثناة تحتية الراية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved