- فتوی نمبر: 36-113
- تاریخ: 05 اگست 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِه ثَمَنًا قَلِیْلًا-اُولئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ [البقرة:174 ]
’’بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘
مولانا صاحب مجھے اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے بارے میں جاننا ہے کہ کیا قرآن پاک کی قیمت لینا گناہ ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس آیت میں قرآن چھاپ کر فروخت کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس کے اصل احکامات چھپا کر لوگوں کو ان کی مرضی کی غلط بات قرآن سے ثابت ہے کہہ کر بتانا ہے تاکہ لوگ خوش ہو کر پیسے دیں۔
تفسیر الرازی (5/205) میں ہے:
وقد مر ذلك وبالجملة فكان غرضهم من ذلك الكتمان: أخذ الأموال بسبب ذلك، فهذا هو المراد من اشترائهم بذلك ثمنا قليلا.
المسألة الثالثة: إنما سماه قليلا إما لأنه في نفسه قليل، وإما لأنه بالإضافة إلى ما فيه من الضرر العظيم قليل.
المسألة الرابعة: من الناس من قال: كان غرضهم من ذلك الكتمان أخذ الأموال من عوامهم وأتباعهم، وقال آخرون: بل كان غرضهم من ذلك أخذهم الأموال من كبرائهم وأغنيائهم الذين كانوا ناصرين لذلك المذهب، وليس في الظاهر أكثر من اشترائهم بذلك الكتمان الثمن القليل، وليس فيه بيان من طمعوا فيه وأخذوا منه، فالكلام مجمل وإنما يتوجه الطمع في ذلك إلى من يجتمع إليه الجهل، وقلة المعرفة المتمكن من المال والشح على المألوف في الدين فينزل عليه ما يلتمس منه فهذا هو معلوم بالعادة
تفسیر القرطبی (2/234) میں ہے:
يعني علماء اليهود، كتموا ما أنزل الله في التوراة من صفة محمد صلى الله عليه وسلم وصحة رسالته. ومعنى” أنزل”: أظهر، كما قال تعالى:” ومن قال سأنزل مثل ما أنزل الله ” [الانعام: 93] أي سأظهر. وقيل: هو على بابه من النزول، أي ما أنزل به ملائكته على رسله.”ويشترون به” أي بالمكتوم” ثمنا قليلا” يعني أخذ الرشاء. وسماه قليلا لانقطاع مدته وسوء عاقبته. وقيل: لأن ما كانوا يأخذونه من الرشاء كان قليلا. قلت: وهذه الآية وإن كانت في الأخبار فإنها تتناول من المسلمين من كتم الحق مختارا لذلك بسبب دنيا يصيبها
الدر المنثور (1/206) میں ہے:
لَا بَأْس بِبيع الْمَصَاحِف ونقطها بالآجر
اختلاف العلماء للطحاوی (3/86) میں ہے:
قال أصحابنا ومالك والثوري لا بأس ببيع المصاحف وشرائها ………. قال أبو جعفر كما جاز بيع الدراهم والدنانير التي عليها آي من القرآن جاز بيع المصحف لأن حكم الآية والجميع متفق ألا ترى أن الجنب لا يقرأ آية كما لا يقرأ الجميع
شامی (4/352) میں ہے:
وفي شرح الملتقى: وجاز بيع المصحف المخرق وشراء آخر بثمنه
معارف القرآن، مفتی محمد شفیع صاحبؒ (1/428) میں ہے:
علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق غلط فتوے دیتے تھے اور تورات کی آیات میں تحریف کر کے ان کے مطلب کے موافق بناتے تھے اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتاب کا اخفاء کرتے ہیں اور اس کے معاوضے میں دنیا کا متاع قلیل وصول کرتے ہیں ایسے لوگ اور کچھ نہیں اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔
كفايت المفتی (1/150) میں ہے:
مصاحف مطبوعہ یا قلمی مالک کی ملک ہے اور وہ ان کو بیع کر سکتے ہیں اور ان کی تجارت ممنوع ہونے کی کوئی وجہ نہیں اورقرآن کریم کی طبع اور نشر اور تجارت سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved