- فتوی نمبر: 36-118
- تاریخ: 11 اگست 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > اجارہ فاسدہ کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ ایک مدرسہ عربیہ میں مدرس ہونےکے ساتھ دارالافتاء میں بھی خدمات سر انجام دیتا ہے، مشاہرہ کے سلسلہ میں حضرت مدیر صاحب کے سامنے دو صورت پیش کیں: ”اگر بہتر سمجھیں یا تو میری باقاعدہ تنخواہ جاری فرمانے کی ترتیب بنا دی جائے، یا دار الافتاء میں آنے والے وہ مستفتی جن کا فتویٰ میں حل کرتا ہوں، ان کی طرف سے فتویٰ کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم / فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے مقرر فرما دیا جائے، تاکہ میں اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں“ بعد ازاں دوسری صورت (فتوی کی وجہ سے مدرسہ کو دی جانے والی رقوم / فیس میں سے مناسب حصہ (مثلاً: نصف) میرے لیے) مقرر کر دی گئی۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذ کورہ صورت شرعاً جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: مستفتی حضرات سے جو رقم یا فیس لی جاتی ہے کیا وہ فکس اور متعین ہوتی ہے؟ یا کم و بیش ہوتی ہے؟
جواب وضاحت: ان سے یہ كہا جاتا ہے كہ ہزار روپیہ فیس ہے باقى آپ جتنى دے دیں۔كچھ ہزار روپے دے دیتے ہیں كوئى پانچ سو باقى جتنى بھى دیتے ہیں وہ وصول كركے باقاعدہ مدرسے كى رسید دى جاتى ہے۔
مزید وضاحت مطلوب ہے: آپ خود مفتی ہیں تو آخر آپ نے یہ صورت جائز سمجھ کر ہی اختیار کی ہوگی تو اب مسئلہ پوچھنے یا تردد کی کیا وجہ ہے؟
جواب وضاحت: اس وقت تو جائز سمجھ کر ہی یہ صورت اختیار کی تھی لیکن بعد میں خیال آیا کہ اپنا مسئلہ دوسروں سے پوچھنا چاہیے۔تاکہ کسی بھی قسم کا قلبی خلجان نہ رہے۔نیز اس صورت کے علاوہ ادارے کے مہتمم صاحب کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس مشاہرہ کی گنجائش نہیں ہے۔مزید برآں کہ مستفتی سے فتویٰ کی فیس وصولی کی صورت میں رسید میں “مد” کے خانہ میں فتویٰ لکھا جاتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری تحقیق میں مذکورہ صورت جائز نہیں ہے آپ دیگر دارالافتاؤں سے معلوم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں اجرت مجہول ہے کیونکہ معلوم نہیں کہ کتنے مستفتی آئیں گے اور پھر یہ بھی حتمی نہیں کہ جو مستفتی آئے گا تو وہ کتنے پیسے جمع کروائے گا ،نیز ہماری معلومات میں مدارس میں مذکورہ صورت کا عرف بھی نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ عرف کی وجہ سے یہ جہالت مفضی الی النزاع نہیں رہی لہذا مذکورہ صورت جائز نہیں ۔
نوٹ: آجکل اگرچہ کچھ صورتوں میں فیصد میں اجرت طے کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے جیسا کہ دلال اور دکان کے ملازموں کے مسئلہ میں لیکن چونکہ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان صورتوں کا عرف ہونا ہے کیونکہ عرف ہونے کہ وجہ سے جہالت مفضی الی النزاع نہیں رہتی جبکہ مذکورہ صورت کا عرف نہیں لہذا مذکورہ صورت ان پر قیاس کرتے ہوئے جائز نہ ہوگی۔
شامی (9/9) میں ہے:
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
شامی(9/77) میں ہے:
(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل
شامی (6/ 63) میں ہے:
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved