- فتوی نمبر: 36-119
- تاریخ: 11 اگست 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تبرکات و مقدس اشیاء
استفتاء
کیا ناپاک کپڑے پہن کر قرآن پاک کھول کر پڑھ سکتے ہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: ایسا کیوں کرنا ہے؟ تفصیل بتائیں۔
جواب وضاحت: ایک شخص ہے جسے پیشاب کے قطرے آتے ہیں وہ اس بیماری کی وجہ سے نا پاک کپڑوں میں نماز تو نہیں پڑھ سکتا۔کیا قرآن بھی نہیں کھول سکتا ناپاک کپڑوں میں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ شخص قرآن کھول کر قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے۔ تاہم قرآن کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو ضروری ہے اور اگر وضو نہ ہو تو قرآن پر بغیر کسی حائل کے ہاتھ نہ لگائے کسی کپڑے سے صفحہ وغیرہ پلٹے۔
البحر الرائق (1/212) میں ہے:
يجوز للمحدث الذي يقرأ القرآن من المصحف تقليب الأوراق بقلم أو عود أو سكين
مجمع الانہر (1/25) میں ہے:
(ولا يجوز لمحدث) مطلقا سواء كان بالحدث الأصغر أو الأكبر (مس مصحف إلا بغلافه المنفصل) كالخريطة ونحوها.
فتاویٰ محمودیہ (3/520) میں ہے:
سوال:- ا گرکوئی معلمِ قرآن شریف پیٹ کامریض ہواس کاوضوزیادہ دیرتک نہ رہتاہواس کے لئے بغیروضوکے یاتیمم سے قرآن چھونے میں کچھ گنجائش ہو سکتی ہے یانہیں؟
الجواب حامداً ومصلیاً:ایساشخص رومال ہاتھ میں لے کراس سے چھولیاکرے۔
فتاویٰ محمودیہ (3/522) میں ہے:
سوال: زید نے قرآن پاک حفظ کر لیا ہے اب وہ پکا کرنا چاہتا ہے چونکہ اسے تجارت کی غرض سے اکثر سفر کرنا پڑتا ہے اور وہ ریاحی مریض بھی ہے کہ اکثر ریاح خارج ہوتی رہتی ہے تو اس صورت میں کیا وہ دو ایک مرتبہ وضو بنا کر بار بار قرآن چھو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: صورت مسئولہ میں وہ شرعی معذور نہیں ہے اس کو چاہیے کہ رومال یا تولیہ ساتھ رکھے اس سے قرآن پاک کو پکڑے بلا وضو ہاتھ نہ لگائے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/450 ) میں ہے:
بغیر وضو کے قران مجید پڑھنا جائز ہے مگر ہاتھ لگانا جائز نہیں ،ناپاک ہونے کی حالت میں قرآن مجید کو بغیر غلاف کے ہاتھ لگانا گناہ کبیرہ ہے اگر کبھی ایسی ضرورت پیش آجائے تو کسی پاک کپڑے کے ساتھ قرآن مجید کو اٹھانا چاہیے ۔
امداد المفتین (2/48) میں ہے:
سوال: ایک آدمی جو قرآن مجید حفظ و ناظرہ پڑھاتا ہو اور تفسیر قرآن بھی پڑھاتا ہو اور اکثر اوقات اسی سلسلے میں مشغول رہتا ہے مگر وضو اس کا چند منٹ تک مشکل سے رہتا ہے ریح کو پیٹ میں روکے رکھنا بھی مشکل ہے ہر وقت وضو بھی دشوار ہے اب وہ کیا کرے؟
جواب: یہ تعلیم جاری رکھیں قرآن کو ہاتھ سے نہ چھوئیں کپڑے کے ساتھ پکڑے۔
حاشیہ میں ہے: یعنی الگ سے کسی کپڑے یا رومال وغیرہ کے ذریعے پکڑے پہنے ہوئے کپڑوں سے نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved