- فتوی نمبر: 36-120
- تاریخ: 11 اگست 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > پردے کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والدین نے میرے لیے رشتہ تلاش کیا اور انہوں نے میرے سے میری رائے پوچھی تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا میں والدین کو اس طرح کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک نظر لڑکی کو دیکھ کر پھر بتاؤں گا کیا شریعت مجھے اس چیز کی اجازت دیتی ہے کہ میں اپنی مرضی سے اپنی پسند سے شادی کر سکوں؟ رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کو چھپ چھپا کر ایک دفعہ دیکھنا جائز ہے لہذا آپ والدین کو کہہ سکتے ہیں کہ میں ایک نظر لڑکی کو دیکھ کر بتاؤں گا لیکن باقاعدہ دیکھنے دکھانے کا نظم بنانا درست نہیں۔
سنن ابی داؤد (رقم: 2082) میں ہے:
عن جابر بن عبد الله قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم “إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل”، قال: فخطبت جارية فكنت أتخبأ لها حتى رأيت منها ما دعاني إلى نكاحها وتزويجها فتزوجتها
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے“۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام نکاح دیا تو میں اسے چھپ چھپ کردیکھنے کی کوشش میں رہا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس سے نکاح کی طرف راغب کیا تھا تو میں نے اس سے شادی کر لی۔
بذل المجہود (7/ 653)میں ہے:
(عن جابر بن عبد الله قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل، قال) أي جابر:(فخطبت جارية فكنت أتخبأ) أي أختفي (لها) أي للنظر إليها (حتى رأيت منها) أي من وجهها (ما دعاني إلى نكاحها وتزويجها، فتزوجتها).
رد المحتار (6/ 370)میں ہے:
ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها، وإن خاف أن يشتهيها لقوله عليه الصلاة والسلام للمغيرة بن شعبة حين خطب امرأة «انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما» رواه الترمذي والنسائي وغيرهما ولأن المقصود إقامة السنة لا قضاء الشهوة
امداد الفتاوٰی( 4/200) میں ہے:
سوال :میں نے لڑکی کو لڑکے کی والدہ اور پھوپھی اور بہن کو اس لئے دکھایا کہ احادیث شریفہ کی رُو سے خود لڑکے کو دیکھنا درست ہے، تو اُس کے اقربائے نسواں کو دکھانا بھی حسب حدیث عمل ہوگا، اگر چہ بعض جگہ لڑکی کو دکھانے کی رسم عرفاً گو معیوب سمجھی جاتی ہے، مگر جو عرف کہ خلاف حدیث ہو وہ قابل عمل نہیں ، پس میرا یہ عمل وخیال وتوجیہ درست ہے کہ نہیں ؟ اور اگر درست نہ ہوتو بصراحت آگاہ فرمایا جاوے، تاکہ عرف خلاف حدیث قابل عمل ہونے کی حقیقت از طفیل رہنمائی حضور موضوح ہو؟
الجواب: یہ عرف اُس حدیث کے خلاف نہیں ہے؛ کیونکہ حدیث سے رویت ثابت ہے، نہ کہ ارائت، یعنی حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکی والے اس خاطب کو خود لڑکی دکھلادیں ؛ بلکہ خاطب کو اجازت ہے کہ اگر تمہارا موقع لگ جاوے تو تم دیکھ لو پس اسی طرح جو عورت خاطب کے قائم مقام ہے اُس کا دیکھ لینا تو اس حدیث میں حکماً داخل ہو سکتا ہے، باقی یہ ہر گز حدیث کا مدلول نہیں کہ لڑکی والے اہل خاطب کو دکھلایا کریں ، حدیث اس سے محض ساکت ہے، اگر تجربہ سے نسوان خاطب کو دکھلانا خلاف مصلحت ثابت ہو، اُن سے پردہ کرانے کا عرف ہرگز خلافِ حدیث نہیں ، جیسا عورتوں کو دکھلا دینا بھی خلاف حدیث نہیں ، شرعاً دونوں شقوں کا اختیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved