- فتوی نمبر: 36-193
- تاریخ: 19 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج کی شرائط کا بیان
استفتاء
لوگ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے کے بعد زندگی میں کسی بھی ٹائم حج فرض ہو جاتا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ بات ہرحال میں تو صحیح نہیں البتہ بعض صورتوں میں عمرہ کرنے سے حج فرض ہو جاتا ہے، مثلا کسی نے رمضان میں عمرہ کیا ہو اور شوال کا چاند حرم میں رہتے ہوئے نظر آگیا ہو اور اس کے پاس حج کے دنوں تک حرم میں رہنے کا اور اپنے اہل و عیال کا خرچہ بھی ہو۔
ہندیہ (1/217) میں ہے:
وفي الينابيع يجب الحج على أهل مكة، ومن حولهما ممن كان بينه وبين مكة أقل من ثلاثة أيام إذا كانوا قادرين على المشي، وإن لم يقدروا على الراحلة، ولكن لا بد أن يكون لهم من الطعام مقدار ما يكفيهم وعيالهم بالمعروف إلى عودهم كذا في السراج الوهاج
الجوہرۃ النیرۃ (1/148) میں ہے:
وإنما تشترط الراحلة في حق من بينه وبين مكة ثلاثة أيام فصاعدا أما فيما دونها لا تشترط إذا كان قادرا على المشي ولكن لا بد أن يكون لهم من الطعام مقدار ما يكفيهم وعيالهم بالمعروف إلى عودهم
ارشاد الساری میں ہے:
ومن كان داخل المواقيت فهو كالمكي في عدم اشتراط الراحلة اي اذا قدروا على المشي واما الزاد فلابد منه في ايام اشتغالهم بنسك الحج كما صرح به غير واحد ففي الينابيع لا بد لهم من الزاد وقدر ما يكفيهم وعيالهم بالمعروف وزاد في السراج الوهاج :الى عودهم
غنیۃ الناسک (ص:34) میں ہے:
والراحلة تشترط في حق الافاقي فقط قدر على المشي اولا اما المكي ومن حولها وهو من كان داخل المواقيت الى الحرم فلا يشترط في حقة الراحلة اذا كان قادرا على المشي بلا مشقه زائدة فكالافاقي واما الزاد فشرط لابد منه قدر ما يكفيه وعياله في ايام اشتغاله بنسك الحج
حج و عمرہ کے ضروری مسائل، مؤلفہ :حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ(ص:09) میں ہے:
جو رمضان میں عمرہ کے لیے گیا اور شوال کا چاند مکہ مکرمہ میں ہوگیا کیا اس پر حج فرض ہوگیا؟
چونکہ پہلی شوال سے حج کا موسم شروع ہو جاتا ہے لہذا اس شخص کا اب موجودہ سرمایہ دیکھا جائے گا اگر اس کے پاس اتنا سرمایہ ہے خواہ وہ اس کے گھر ہی میں ہو کہ وہ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے حج تک کے اور حج کے اخراجات نکال سکتا ہے اور واپسی تک گھر والوں کے اخراجات بھی دے سکتا ہے تب تو اگر اس نے پہلے حج نہ کیا ہو تو اس پر حج فرض ہو گیا اگر ہو سکے تو اسی سال حج کر کے واپس جائے اور اگر حکومتی پابندیوں کی وجہ سے اس سال نہ کر سکے تو ائندہ حج کرنے کی کوشش کرے اور اگر اس کے پاس اتنا سرمایہ نہیں جس میں سے یہ اخرجات نکال سکے تو مکہ مکرمہ میں شوال کے چاند کو دیکھنے کے باوجود اس پر حج فرض نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved