- فتوی نمبر: 36-201
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔اگر بچہ پیدا ہوا اور اس کو غسل نہ دیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
2۔گلے میں ایسا تعویذ ہو جس پر اللہ کا نام ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ اگر غسل دینے سے کوئی مجبوری ہے تو جسم پر لگی نجاست کسی ٹشو سےصاف کردی جائے ۔
توجیہ: بچے کے جسم پر پیدائش کے وقت لگی ہوئی رطوبت فرج امام صاحب کے نزدیک نجس نہیں ہے اور صاحبینؒ کے نزدیک نجس ہے امام صاحب ؒ کا قول مختار ہے لہذا بچے کو غسل دینا یعنی اس کے جسم کو دھونا واجب نہیں البتہ اختلاف کی وجہ سے احتیاط اس میں ہے کہ غسل دے دیا جائے یعنی بچے کے جسم کو دھو دیا جائے لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے غسل دینا (جسم کو دھونا) ممکن نہ ہو تو رطوبت کسی کپڑے سے صاف کردی جائے۔ نیز مذکورہ تفصیل اس صورت میں ہے جب بچے کے بدن پر رطوبت فرج کے علاوہ کوئی اور نجاست مثلاً خون، پیشاب وغیرہ نہ لگا ہو لیکن اگر کوئی اور نجاست بھی لگی تو اسے دھونا بالاتفاق ضروری ہے۔
2۔ تعویذ کسی چمڑے وغیرہ میں لپٹا ہوا ہو تو جائز ہے۔
المجموع شرح المہذب (2/556)میں ہے:
وقال الولد إذا خرج طاهر لا يجب غسله بإجماع المسلمين وكذا البيض
الحاوی للفتاویٰ للسیوطیؒ (1/ 10) میں ہے:
«وقال: الولد إذا خرج طاهرا لا يجب غسله بإجماع المسلمين فكذا البيض، وقال بعده بأوراق ما نصه: الرابعة في الفتاوي المنقولة عن صاحب الشامل أن الولد إذا خرج من الجوف طاهرا لا يحتاج إلى غسله بإجماع المسلمين»
الغرر البہیہ فی شرح البہجۃ الوردیہ، ابو یحییٰ السنیکی ، ت: ۹۲۶ھ (1/ 43) میں ہے:
«في شرح الروض وظاهر أن محل عدم وجوب غسل البيض والولد إذا لم يكن معهما رطوبة نجسة»
تحفۃ المحتاج ، لابن حجر الہیتمی ، ت: ۹۷۴ھ(1/ 91) میں ہے:
«لا يجب غسل البيضة والولد إذا خرجا من الفرج، وظاهر أن محله إذا لم يكن معهما رطوبة نجسة انتهى روض وشرحه»
شامی (1/341)میں ہے:
ولذا نقل في التتارخانية أن رطوبة الولد عند الولادة طاهرة، وكذا السخلة إذا خرجت من أمها، وكذا البيضة فلا يتنجس بها الثوب ولا الماء إذا وقعت فيه، لكن يكره التوضؤ به للاختلاف، وكذا الإنفحة هو المختار. وعندهما يتنجس، وهو الاحتياط
فتاویٰ تاتارخانیہ (1/433) میں ہے:
الرطوبة التي علی الولد عند الولادة طاهرة … السخلة إذا خرجت من أمها، فتلك الرطوبات طاهرة لایتنجس بها الثوب ولا الماء، وفي الفتاوی العتابیة: هو المختار، وعندهما یتنجس وهو الاحتیاط”
شامی (6/364) میں ہے:
ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة
مجمع الانہر (1/43) میں ہے:
ولو كان ما فيه شيء من القرآن أو من أسماء الله تعالى في جيبه لا بأس به وكذا لو كان ملفوفا في شيء لكن التحرز أولى
کفایت المفتی (9/79) میں ہے:
جواب :تعویذ کے ساتھ جبکہ وہ غلاف میں چھپا ہوا ہو بیت الخلاء میں جانا جائز تو ہے مگر بہتر یہ ہے کہ تعویذ باہر رکھ کر جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved