• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی ایک صورت

استفتاء

میرا نام  زید ہے۔ میرے والد کا نام خالد ہے۔ میرے دادا ابو کا نام عمر ہے۔1994ء میں میری والدہ کی شادی ان کے تایا ابو کے گھر میرے والد صاحب خالد سے ہوئی  جو بچپن سے دماغی بیماری میں مبتلا تھے میرے نانا ابو کو فالج ہونے کی وجہ سے میرے دادا ابو نے  ان کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیمار بیٹے سے کر دیا۔کیونکہ میرے ماموں  بھی چھوٹے تھے میرے دادا ابو ایک ٹیکسٹائل مل کے مالک تھے۔ ٹیکسٹائل مل کا نام” ****ٹیکسٹائل پرائیویٹ لیمیٹڈ”ہے میری ایک بہن ہے جو 1995ء میں پیدا ہوئی جس کا نام مریم ہے میں زید 1996ء میں پیدا ہوا میرے والد  دماغی بیماری کی وجہ سے میری والدہ کو مارتے تھے۔اپنی بہنوں اور بھائیوں کے کہنے پر مارتے تھے۔یہ بات 2002 کی ہے جب میری والدہ نے طلاق لینے کا سوچا کیونکہ ہر سہولت اور دولت باقی بچوں کو دی جاتی تھی میرے والد اور والدہ کو کچھ نہیں ملتا تھا سوائے رسوائی کے۔میری والدہ پھر بھی اس رشتے کو لے کر چلتی رہی،  2002 میں طلاق ہوئی میں پانچ سال کا تھا اور میری بہن سات سال کی میرے چاچو اور تایا ہمیں خرچہ بھیجتے رہے۔میری  بہن کی شادی 2016 میں ہوئی، اس کی شادی پر سارا خرچہ میرے دادا ابو کی طرف سے تھا میری دادی کے  انتقال کے بعد میرے دادا ابو نے شادی کرنی تھی ان کے باقی بیٹوں نے کہا کہ آپ فیکٹری کے حصے ہمیں ٹرانسفر کردیں اور خالد اور اس کے بچوں کا حصہ ہمارے حوالے کریں پھر شادی کرنے دیں گے میرے دادا ابو نے سب کچھ ان کو دے دیا  اور یہ بھی کہا کہ اس میں  خالد کا بھی حصہ ہے لیکن کاغذات میں صرف چچا اور تایا کے نام کی ، میرے والد کا نام نہیں لکھا۔ حضرت مجھے اور میرے باپ کو انہوں نے کچھ نہیں دیا میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور اب میرے دادا ابو کا بھی انتقال ہو چکا ہے کروڑوں روپے کی جائیداد پر میرے چاچو اور تایا کا قبضہ ہے یہ مجھے اور والد کو زندگی گزارنے کے لیے کچھ نہیں دے رہے۔جب تک دادا حیات تھے میرے چاچا کہتے تھے کہ آپ کے والد کا حصہ ہم دے دیں گے لیکن دادا کی وفات  کے بعد انکاری ہیں  کہتے ہیں آپ کا کوئی حصہ نہیں۔ کیا میرے والد کا اور ان کی اولاد کا دادا کی جائیداد میں حصہ بنتا ہے؟

نوٹ: سائل کے مہیا کردہ نمبر پر رابطہ کیا گیا تو سائل کے چچا نے ایک مرتبہ فون اٹھایا اور کہا کہ میں اپنے بڑے بھائی سے آپ کی بات کرواؤں گا اس کے بعد متعدد مرتبہ کال کی گئی لیکن فریق ثانی نے کال نہیں اٹھائی

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کا تو دادا کی جائیداد میں فی الحال کوئی حصہ نہیں البتہ آپ کے والد کا ہو سکتا ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ آپ کے دادا نے واقعتاً یہ کہا ہو کہ اس میں عبدالرؤف کا بھی حصہ ہے اور ایسی صورت میں تایا اور چچا کا اس حصے سے انکاری ہونا صحیح نہیں اور اسی طرح مطالبے کے باوجود حصہ نہ دینا بھی صحیح نہیں۔

بدائع الصنائع (6/115) میں ہے:

فالإيجاب ‌هو ‌أن ‌يقول الواهب وهبت هذا الشيء لك أو ملكته منك أو جعلته لك أو هو لك أو أعطيته أو نحلته أو أهديته إليك أو أطعمتك هذا الطعام أو حملتك على هذه الدابة ونوى به الهبة

ہندیہ (4/375) میں ہے:

أما الأول فكقوله: وهبت هذا الشيء لك، ‌أو ‌ملكته ‌لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة

شرح المجلہ (4/14) میں ہے:

كل واحد من الشركاء فى شركة الملك اجنبى فى حصة الآخر ليس واحد وكيلا عن الآخر فلا يجوز تصرف احدهما فى حصة الآخر بدون إذنه

فقہ البیوع (1/227) میں ہے:

وماذكرنا من حكم التلجئة يُقاربه ما يُسمّى فى القوانين الوضعية عقوداً صورية “

وهي أن تشتري أرض باسم غير المشترى الحقيقي، وتُسجّل الأرض باسمه في الجهات الرسم وذلك لأغراض ضريبية، أو لأغراض أخرى، ولكن المشتري الحقيقي هو الذي دفع ثمنه وعدة من القوانين الوضعية تعترف بكونها صوريّة، وبأن العبرة فيما بين المتعاقدين بالعقد الحقيقي المستتر………  وعلى هذا الأساس أفتى علماء شبه القارة الهندية بأن مجرد تسجيل الأرض باسم أحد لا يستلزم أن يكون هو مالكاً لها، فلواشتراها أحد باسم رجل آخر لم يدفع الثمن، وإنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجيل لا يعنى أنه وهب له الأرض.

ہندیہ(4/374) میں ہے:

وأما شرائطها فأنواع ‌يرجع ‌بعضها ‌إلى ‌نفس الركن وبعضها يرجع إلى الواهب وبعضها يرجع إلى الموهوب ….. ‌ومنها ‌أن ‌يكون ‌الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض

الد رالمختار مع ردالمحتار (5/690) میں ہے:

والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها

(قوله: صحته) ‌أي ‌القبض ‌بالتخلية

التجرید للقدوری (5/2427) میں ہے:

وقبض العقار فی العرف التخلية

فتح القدیر (6/297) میں ہے:

وفي ‌الأجناس ‌يعتبر في صحة التسليم ثلاثة معان: أن يقول خليت بينك وبين المبيع

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved