- فتوی نمبر: 37-13
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سنت اور نفل نمازوں کا بیان
استفتاء
1۔فرض نماز کے بعد جو بقیہ نماز میں نوافل ہوتے ہیں کیا وہ مؤکدہ سنتیں ہیں؟
2۔کیا سنتیں،نوافل چھوڑ کر قضا نمازیں پڑھ سکتے ہیں کوئی حرج یا گناہ تو نہیں؟ کیونکہ ہماری بہت نمازیں قضا ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ظہر، مغرب اور عشاء کے فرضوں کے بعد دو، دو رکعات سنتِ مؤکدہ ہیں اس کے علاوہ صرف نوافل ہیں، مؤکدہ نہیں۔
2۔نفل چھوڑنے کی اجازت ہے، سنتِ مؤکدہ چھوڑنے کی نہیں۔
مراقی الفلاح (ص:145) میں ہے:
سن سنة مؤكدة ركعتان قبل الفجر وركعتان بعد الظهر وبعد المغرب وبعد العشاء وأربع قبل الظهر وقبل الجمعة وبعدها بتسليمة.وندب أربع قبل العصر والعشاء وبعده وست بعد المغرب
ہندیہ (1/125) میں ہے:
وفي الحجة الاشتغال بالفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المعروفة
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:448) میں ہے:
والاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنة المعروفة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي وردت في الأخبار فتلك بنية النفل وغيرها بنية القضاء كذا في المضمرات عن الظهيرية وفتاوى الحجة ومراده بالسنة المعروفة المؤكدة
احسن الفتاویٰ(4/20) میں ہے:
سوال: کیا یہ جائز ہے کہ سنت، نفل اور تراویح کے بجائے اس وقت میں قضا نمازیں پوری کرنے کی کوشش کروں؟
جواب: قضاء نمازیں پڑھنے کے لیے سنتِ مؤکدہ اور تراویح نہ چھوڑیں، بلکہ حضرات فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نوافلِ ماثورہ مثلِ چاشت، اوابین اور صلاۃ التسبیح وغیرہ کو بھی قضا پر مقدم فرماتے ہیں۔ مگر یہ اس صورت میں معلوم ہوتا ہے کہ اسبابِ ظاہرہ کے پیشِ نظر موت سے قبل قضا نمازوں سے سبکدوشی کی توقع ہو۔ اگر قضا نمازیں بہت زیادہ ہیں اور عمر کم نظر آ رہی ہے تو اصولاً نوافل پر قضا کو ترجیح لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved