- فتوی نمبر: 36-279
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > قربانی کا بیان > وجوب قربانی کا بیان
استفتاء
جس بندہ کے ذمہ قرض ہو کیا اس کی قربانی ہوجاتی ہے؟ الحمدللہ میرے اوپر تو نہیں لیکن کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں ہمارے معاشرے میں جن کے ذمہ قرض ہوتا ہے اور وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور قربانی بھی بڑھ چڑھ کرکرتے ہیں اور قرض کی ادائیگی نہیں کرتے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرض کی ادائیگی کی فکر نہ کرنا اور کسی کو بلاوجہ تکلیف دینا گناہ ہے تاہم اگر کوئی اس کے باوجود قربانی کرے تو قربانی ہوجاتی ہے۔
شرح النووی علی مسلم (10/227) میں ہے:
قوله صلى الله عليه وسلم (مطل الغني ظلم) قال القاضي وغيره المطل منع قضاء ما استحق أداؤه فمطل الغني ظلم وحرام
تکملہ فتح الملہم (1/322) میں ہے:
(مطل الغني) والمعنى أنه يحرم على الغني القادر أن يمطل بالدين بعد استحقاقه
مسائل بہشتی زیور(/211) میں ہے:
جب اپنے پاس پیسے موجود ہوں تو ناحق کسی کو ٹالنا کہ آج نہیں کل آنا۔اس وقت نہیں اس وقت آنا ابھی کھلے پیسے نہیں ہیں،جب کھلے پیسے ہوں گے تب دام ملیں گے۔یہ سب باتیں حرام ہیں جب وہ مانگے اسی وقت روپیہ کھلوا کر دام دے دینا چاہیے۔ہاں البتہ اگر ادھار خریدا ہے تو جتنے دن کے وعدے پر خریدا ہے اتنے دن کے بعد دینا واجب ہوگا اب وعدہ پورا ہونے کے بعد ٹالنا اور چکر لگوانا جائز نہیں۔
فتاوی محمودیہ (9/672) میں ہے:
سوال: ایک شخص چھ صد روپیہ کا مقروض ہے اس کے باوجود وہ باخوشی نفلی قربانی کرنا چاہتا ہے کیا عند اللہ اس کی قربانی مقبول ہوگی یا نہیں۔
جواب: مقروض کے لیے نفلی قربانی جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے قرضہ ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved