• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسافتِ سفر کی تعیین

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی مسافتِ سفر کی حد کے بارے میں بعض کتابوں میں  77.24، 77.25  کا قول مذکور ہے مثلاً اوزان شرعیہ (ص:51)،احسن الفتاویٰ (4/105)، فتاویٰ رحیمیہ (5/175)، نجم الفتاویٰ (2/ 302)  اور بعض کتابوں میں 78 کلومیٹر  کا قول مذکور ہے مثلاً فتاویٰ دارالعلوم زکریا (2/503)، فتاویٰ فریدیہ (3/ 58) ، ان میں سے راجح اور معتمد قول کون سا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری معلومات میں 77.25 کلومیٹر والا قول  صحیح ہے، 78 کلومیٹر والے قول کی  کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔

توجیہ: ہمارے اکابر کی تحقیق کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے عام میدانی علاقوں میں  مسافتِ سفر 48 میل انگریزی ہے  اور ایک میل انگریزی 1.609344 کلو میٹر بنتا ہے اس حساب سے 48  میل  انگریزی 77.248 بنتے ہیں اور قاعدہ ہے کہ اعشاریہ کے بعد اعداد میں سے کوئی عدد پانچ سے بڑا ہو تو  بڑے عدد کو حذف کردیتے ہیں اور اس سے پہلے والے عدد میں ایک کا  اضافہ کر دیتے ہیں  تو 77.248 میں  اعشاریہ کے بعد 8 کا عدد ختم کرکے اس سے پہلے  4 کے عدد میں ایک کا  اضافہ کردیا جائے تو 77.25 بن جاتے ہیں لہٰذا 77.25والا قول صحیح ہے اور 78 کلومیٹر والا قول صحیح معلوم نہیں ہوتا۔

اوزان شرعیہ (ص:51) میں ہے:

سفر شرعی کی مسافت کی تعیین میں صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے مذاہب مختلف ہیں جن کی تفصیل عمدۃ القاری وغیرہ میں مذکور ہے مگر راجح اور صحیح مذہب امام اعظم کا یہ ہے کہ کسی خاص مقدار کی تحدید میلوں سے نہ کی جاوے بلکہ تین دن تین رات میں جس قدر مسافت انسان پیدل چل کر بآسانی طے کر سکے یا اونٹ کی سواری پر بآسانی طے کرے وہ مقدار مسافت شرعی ہے اور حسب تصریح ابن ہمام بیلوں کی سواری کا بھی یہی حکم ہے ………..  اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے سفر شرعی کی مسافت تین منزل قرار دی ہے صاحب ہدایہ اس کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ اس روایت کا حاصل بھی تقریبا وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا یعنی تین دن کی مسافت ………… لیکن ہندوستان کے عام بلاد میں چونکہ راستے تقریبا مساوی ہیں پہاڑی یا دشوار گزار نہیں ہیں اس لیے علماء ہندوستان نے میلوں کے ساتھ تعیین کر دی ہے ……….. پھر جن حضرات فقہاء نے میلوں یا فراسخ کے ساتھ مسافت قصر کی تعیین فرمائی ہے ان میں اقوال مختلف ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اس لیے محققین علمائے ہندوستان نے 48 میل انگریزی کو مسافت قصر قرار دے دیا ہے جو اقوال فقہاء مذکورین کے قریب قریب ہے  …… الغرض مذہب مختار کے مطابق مسافت قصر تین منزل یا 48 میل انگریزی ہے ۔

 رائج الوقت اوزان کے مطابق نقشہ (مرتبہ مولانا محمد اشرف قریشی )

پیمانہ عربیبرطانوی نظاماعشاری نظام
مسافت قصر۴۸۲۴۸۵۱۲.۷۷

فتاوی رحیمیہ (5/175) میں ہے:

سوال: سورت سے بمبئی جانے کے ارادہ سے نکلا ابھی نوساری ہی تک (تقریباً تیس میل) گیا تھا کہ واپسی کا ارادہ ہوگیا تو اب یہ شخص مسافر رہا یا مقیم بن گیا ؟بینوا توجروا۔

جواب: مسافت سفر شرعی (۷۷ کلو میٹر اور ۲۴۷ میٹر) طے کرنے سے پہلے ہی سفر موقوف کر کے واپسی کا ارادہ کرلیا یا اس جگہ پندرہ روز قیام کی نیت کر لی تو اب وہ مسافر نہیں  رہا، نماز پوری پڑھے، سفر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے قصر جائز نہیں۔

احسن الفتاویٰ (4/105) میں ہے:

مسافت سفر 48 میل انگریزی 77.2485 کلومیٹر ہے،یہ بھی یاد رہے  کہ یہ فیصلہ پاکستان اور ہندوستان کے ہموار  علاقوں کے لیے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved