- فتوی نمبر: 37-28
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
میں نے اپنی بیوی کو طلاق کے نوٹس بھیج کر طلاق دی ہے ۔ پہلا نوٹس 19 مئی کو بھیجا تھا ۔ ایک ماہ تک جب اس کی طرف سے صلح کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تو 19 جون کو دوبارہ ایک نوٹس بھیجا تھا ۔ دوسرے نوٹس کی مدت ختم ہونے سے پہلے 18 جولائی کو ہماری صلح ہوئی ۔ صلح نامہ لکھا گیا ۔ اسی دن بیوی ہمارے گھر آگئی اور رات بھی اکٹھے گزاری ۔کچھ دن اچھے گزرے لیکن پھر کچھ گھریلو معاملات میں اختلافات ہوگئے جس کی وجہ سے اس کے والد اس کو آکر لے گئے اور اس کے بعد 2 ستمبر کو طلاق ثلاثہ کا نوٹس بنوا کر میں نے بھیج دیا ۔ واضح رہے کہ 19 مئی کے بعد پہلی ماہواری جون کے پہلے ہفتہ میں آئی، دوسری ماہواری جون کے آخری دنوں میں آئی، اس کے بعد 18 جولائی تک نہیں آئی۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اب رجوع نامہ لکھ کر ہم طلاق کے نوٹس واپس لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا اب ایسا ممکن ہے ؟
پہلے نوٹس کی متعلقہ عبارت بتاریخ (2026۔05۔19) :
I Zaid resident of …….. was lawfully married to Fatima …..The marriage was solemnized and duly registered on 31.01.2025 at Lahore Pakistan ……..I Zaid hereby pronounce my first notice of divorce (Talaq) to Fatima . This pronouncement is made voluntarily , while being of sound mind , without any coercion , pressure or undue influence .
ترجمہ : میں، زید ، فاطمہ کو اپنی پہلی طلاق کا نوٹس جاری کرتا ہوں۔ یہ طلاق میں اپنی آزاد مرضی سے، مکمل ہوش و حواس میں، کسی قسم کے جبر اور دباؤ کے بغیر دے رہا ہوں۔
دوسرے نوٹس کی متعلقہ عبارت (2026۔06۔19) :
I Zaid hereby pronounce my second notice of divorce (Talaq) to Fatima . This pronouncement is made voluntarily , while being of sound mind , without any coercion , pressure or undue influence .
ترجمہ : میں، زید ، فاطمہ کو اپنی دوسری طلاق کا نوٹس جاری کرتا ہوں۔ یہ طلاق میں اپنی آزاد مرضی سے، مکمل ہوش و حواس میں، کسی قسم کے جبراور دباؤ کے بغیر دے رہا ہوں۔
تین طلاقوں کے نوٹس کی متعلقہ عبارت بتاریخ 2026۔09۔02:
Upon her continued demands and the prevailing circumstances , I issued two divorce notices ……. I Zaid hereby pronounce Talaq-e- Salasa (three divorces)upon my wife Fatima.
ترجمہ : بیوی کے مسلسل مطالبات اور ان حالات میں میں نے اسے طلاق کے دو نوٹس بھیج دیے تھے ۔۔۔۔ اب میں زید اپنی بیوی فاطمہ کو طلاق ثلاثہ(تین طلاقیں ) دیتا ہوں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے نوٹس کے ذریعے تین دفعہ طلاق دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور نکاح مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے اور بیوی شوہر پرحرام ہوچکی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ صلح کی گنجائش ہے۔
حاشیہ ابن عابدین (4/443)میں ہے:
وفي التتارخانية:…..ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه….. وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا‘‘
درمختار(4/528)میں ہے:
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة
حاشیہ ابن عابدین(4/442) میں ہے:
الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة ………. وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو
فتاویٰ عالمگیری(1/407)میں ہے:
وإذا طلق الرجل إمراته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذالك أو لم ترض كذا في الهداية
فتاویٰ عالمگیری(1/472) میں ہے:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved