- فتوی نمبر: 37-30
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
1۔ میرے والد صاحب کا چند دن پہلے انتقال ہوگیا ہے ۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی چھوڑی گئی تمام جائیداد کے3/1حصہ کی وصیت کی تھی کہ اسے انتقال کے بعد فدیہ اور صدقہ جاریہ میں صرف کیا جائے۔واضح رہے کہ والد صاحب انتقال سے 2 ماہ قبل ہسپتال میں رہے ۔ ہڈی کی سرجری کی وجہ سے حرکت نہیں کرسکتے تھے ۔مزید امراض کی وجہ سے غنودگی رہتی تھی ۔ لیکن جب کبھی ہوش آتا تو نماز کا وقت پوچھ کر بغیر وضو اور قبلہ رخ کیے بغیر کثرت سے پڑھتے رہتے تھے اگرچہ ناتمام پڑھتے تھے ۔نماز کی پابندی تھی اس لیے شاید کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو ۔البتہ روزوں کا فدیہ ادا کردیا تھا۔اور صدقہ جاریہ میں کسی مصرف کی تعیین نہیں کی تھی۔ اس میں ہماری راہنمائی فرمائیں ۔
2۔ ہم دو بہنیں اور والدہ ہیں ۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔اور والد صاحب کے صرف ایک بھائی حیات ہیں (والدین فوت ہو چکے ہیں ۔)اور کئی بھتیجے اور بھانجیاں حیات ہیں ۔میرےمرحوم والد کے گھر کے تمام سامان کے متعلق کیا شرعی حکم ہے؟ کچھ سامان 45 سال پرانا ہے اور کچھ 15 یا 20 سال پرانا ہے ۔تمام سامان مثلاً ”چمچ سے لیکر اے سی تک سب کو گننا اور ان کی قیمت لگانا کافی دشوار ہے۔ اس کو کس طرح شرعی اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا۔ان تمام امور میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں آپ کے والد مرحوم کی وصیت کے مطابق ان کے کل ترکہ کے ایک تہائی (3/1)حصہ کو ان کی وصیت کے مطابق صرف کیا جائے گا جس میں سے نصف صدقہ جاریہ (مثلاً مسجد ، مدرسہ کی تعمیر ، جہاں ضرورت ہو وہاں پانی کا انتظام کروادینا ، دینی کتابیں یا قرآن مجید کے نسخے وقف کردینا وغیرہ) میں خرچ کیا جائے گا اور نصف ان کی نمازوں کے فدیہ کے طور پر کسی مستحق زکوۃ کو دیا جائے گا ۔
2۔ باقی دو تہائی مال کے 24 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 3 حصے (12.5 فیصد) ان کی اہلیہ کو ، 8 حصے (33.33 فیصد)دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو اور 5 حصے (20.83 فیصد ) ان کے بھائی کو دیے جائیں گے ۔
اس سامان کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سارے سامان کی قیمت لگوا کر ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کردیا جائے ۔ البتہ اگر ورثاء چاہیں تو باہمی رضامندی سے بھی اس سامان کو آپس میں تقسیم کرسکتے ہیں کہ جس کو جو سامان چاہیے وہ اس میں سے لے لے ۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24
| بیوی | دو بیٹی | 1 بھائی |
| 8/1 | 3/2 | عصبہ |
| 3 | 16 | 5 |
| 3 | 8+8 | 5 |
الدر المختار مع تنوير الابصار (6/761) میں ہے :
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ثم تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) (ثم) تقدم (وصيته من ثلث ما بقي) (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) .
فتاوی شامی (2/ 72) میں ہے :
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة»
فتاوی شامی (2/339)میں ہے :
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر(قوله: أي مصرف الزكاةوالعشروهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني) هو فقیر …… ومسکین ….. وعامل …. فيعطى ولو غنيا لا هاشمياومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه
فتاوی رحیمیہ (10/245) میں ہے :
سوال :صدقۂ جاریہ کی وصیت کی توکون کون سے کام صدقۂ جاریہ میں داخل ہوں گے؟
جواب :صدقۂ جاریہ یعنی ایساکام کرنا جو باقی رہے اور لوگ اس سے فیض حاصل کرتے رہیں اور مرحوم کو اس کا ثواب جاری رہے مثلاً مسجد بنوانا، مدرسہ، مسافرخانہ وغیرہ بنوانادینی کتابی وقف کرنا، کنواں کھدوادینا خاص کر جہاں پانی کی ضرورت ہو وہاں پانی کا انتطام کر دینا وغیرہ وغیرہ ، غرض مرحوم کی اس رقم سے ایسا کام کیا جائے کہ صدقۂ جاریہ کی شکل میں بن جائے کہ میت کو ثواب ملتا رہے ، میت ثواب سے بڑا خوش ہوتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved