- فتوی نمبر: 36-309
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میاں بیوی کے درمیان کچھ گڑ بڑ ہوئی لڑکی کا بھائی اپنی بہن کو کچھ دنوں کے لیے گھر لانے کے لیے گیا توبہنوئی نے کہا کہ “اسکو پکا پکاہی لے جاؤ” اور پھر یہ بھی کہا کہ” ہمیشہ کے لیے لے جاؤ” تو اب لڑکی والے اپنی بیٹی کو شوہر کے ساتھ نہیں چھوڑ رہے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے تو یہ الفاظ کہہ کر ہماری بیٹی کو طلاق دے دی اور لڑکے والے جرگے بھیج رہے ہیں کہ لڑکی ہمارے ساتھ بھیج دو۔ براے مہربانی وضاحت فرمائیں کہ ان الفاظ کے ادا کرنے سے طلاق ہوگئی یا نہیں ؟یا اگر لڑکا یہ کہہ دے کہ میں نے الفاظ تو یہ کہے ہیں لیکن میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو اب کیا کیا جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر کے یہ الفاظ کہ ” اس کو پکا پکا ہی لے جاؤ” اور ” ہمیشہ کے لیے لے جاؤ” کنایات طلاق کی پہلی قسم میں سے ہیں جن سے طلاق کا واقع ہونا ہر حال میں شوہر کی نیت پر موقوف ہوتا ہے لہذا اگر شوہر نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہ کی ہو تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لیکن شوہر کو طلاق کی نیت نہ ہونے پر بیوی کے سامنے قسم دینی ہوگی لہذا اگر شوہر بیوی کے سامنے قسم دے دے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر شوہر قسم دینے سے انکار کرے تو بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو جائے گی جس کے بعد بیوی کے لیے تجدید نکاح کے بغیر شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہ ہوگا۔
شامی (3/298) میں ہے:
والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا…) ………. (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(قوله والكنايات ثلاثة إلخ) حاصله أنها كلها تصلح للجواب: أي إجابته لها في سؤالها الطلاق منه، لكن منها قسم يحتمل الرد أيضا: أي عدم إجابة سؤالها، كأنه قال لها لا تطلبي الطلاق فإني لا أفعله وقسم يحتمل السب والشتم لها دون الرد، وقسم لا يحتمل الرد ولا السب بل يتمحض للجواب كما يعلم من القهستاني وابن الكمال
خیر الفتاویٰ (5/220) میں ہے:
سوال: زید نے اپنی منکوحہ بیوی کو ناراضگی کی حالت میں یہ الفاظ کہے “تازندگی تو اپنے والدین کے گھر رہ، تیرے لیے مرد بہت ہیں اور میرے لیے عورتیں بہت ہیں۔” کیا اس سے طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی؟
جواب: اگر زید نے یہ الفاظ بنیتِ طلاق کہے ہیں تو اس جملے سے “تازندگی اپنے والدین کے گھر رہ”، اس کی زوجہ پر ایک طلاقِ بائنہ واقع ہو گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved