• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کا بیوی کو بہن یا بیوی کا شوہر کو بھائی کہنے سے نکا ح کا حکم

استفتاء

بات کرتے ہوئے بیوی شوہر کو بھائی کہہ دے یا شوہر بیوی کو بہن کہہ دے تو کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مکروہ ہے البتہ اس سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا۔

توجیہ: شوہر کے بیوی کو ماں یا بہن کہنے کے مکروہ ہونے کی دو وجوہات ہیں:

ایک  وجہ یہ  ہے کہ جب اس میں تشبیہ موجود ہو تو ظہار ہو جاتا ہے اس لیے سداللباب بغیر تشبیہ کے بھی بولنے سے منع کیا گیا ہے۔

دوسری وجہ مظنة التحریم ہے یعنی کسی شخص نے شوہر کی زبان سے یہ الفاظ سن لیےاور بعد میں میاں بیوی کی طرح رہتے ہوئے دیکھا تو یہ گمان ہوگا کہ بہن بھی کہتا ہے اور بیوی کی طرح بھی رکھتا ہے۔

اور بیوی کے شوہر کو بھائی یا باپ بولنے میں پہلی وجہ تو نہیں پائی جاتی، البتہ دوسری وجہ پائی جاتی ہے اس لیے بیوی کا شوہر کو بھائی یا باپ کہنا بھی مکروہ ہے۔

الدر المختار مع ردالمحتار (10/153) میں ہے:

ويكره ‌قوله ‌أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه

(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ ” يا أخية ” استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه.

بذل المجہود (8/ 217) میں ہے:

«وإنما كره ذلك، لأن قرابة الأخوة محرمة، فكونها أختا له مظنة التحريم، ويحتمل أن يكون النهي عنه والكراهة سدا للباب. فإنه يحتمل أنه إذا لم ينبه على ذلك يعتدون فيه، ويمكن أن يتكلموا بلفظ يؤدي إلى الظهار، فتحرم عليه، وتجب الكفارة أو الفراق إذا نوى الظهار.

قال الحافظ: قال ابن بطال: ومن ثم قال جماعة من العلماء: يصير بذلك مظاهرا إذا قصد ذلك، فأرشده النبي صلى الله عليه وسلم إلى اجتناب اللفظ المشكل، قال: وليس بين هذا الحديث وبين قصة إبراهيم معارضة؛ لأن إبراهيم إنما أراد بها أنها أخته في الدين، فمن قال ذلك، ونوى أخوة الدين لم يضره.

فتاوی محمودیہ(13/329)  میں ہے:

سوال زید نے غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو ماں یا بہن کہا تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا : اس کہنے سے عورت اس پر حرام نہیں ہوئی بلکہ یہ قول لغو ہوا لیکن ایسا کہنا مکروہ ہے۔

فتاوی محمودیہ(24/276)  میں ہے:

جواب: بیوی کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ شوہر کو “بھیا ” کہے اس کی احتیاط چاہیے مگر اس کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہوا اور نہ وہ اپنے شوہر پر حرام ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved