• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور اٹھنے کے بعد نماز پڑھنے کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب عشاء کی نماز سے پہلے بندہ سو جائے تو جب اٹھے تو جماعت ہوچکی ہو تو بعد میں نماز پڑھ سکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پڑھ سکتا ہے، تاہم اسے عشاء کی نماز سے پہلے سونا نہیں چاہیے یا سوئے تو آلارم لگالے یا کسی کو کہہ دے کہ وہ اسے عشاء کی نماز کے لیے اٹھا دے۔

عمدة  القاری شرح صحيح  البخاری (2/ 177) میں ہے:

عن أبي برزة الأسلمي: أن رسول الله، عليه الصلاة والسلام، كان يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها، فهذا يدل على المنع مطلقا… ….روي ذلك عن علي، رضي الله عنه، أنه كان ربما غفى قبل العشاء، وكان ابن عمر ينام ويوكل من يوقظه، وعن أبي موسى مثله، وعن عروة وابن سيرين أنهما كانا ينامان نومة قبل العشاء، واحتج لهم بأن الكراهة إنما كرهت لمن خشي عليه تفويتها، أو تفويت الجماعة فيها

عمدة   القاری شرح صحيح  البخاری (5/ 66) میں ہے:

عن أبي برزة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها…. ….وعن عروة وابن سيرين والحكم: أنهم كانوا ينامون نومة قبل الصلاة، وكان أصحاب عبد الله يفعلون ذلك، وبه قال بعض الكوفيين، واحتج لهم بأنه كره ذلك لمن خشي الفوات في الوقت والجماعة، أما من وكل به من يوقظه لوقتها فمباح، فدل على أن النهي ليس للتحريم لفعل الصحابة، لكن الأخذ بظاهر الحديث أحوط.

شامی (2/33) میں ہے:

[تنبيه] ‌أشرنا ‌إلى ‌أن ‌علة استحباب التأخير في العشاء هي قطع السمر المنهي عنه وهو الكلام بعدها قال في البرهان: ويكره النوم قبلها والحديث بعدها ………. وقال الطحاوي: إنما كره النوم قبلها لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت الجماعة فيها، وأما من وكل نفسه إلى من يوقظه فيباح له النوم

فتاویٰ محمودیہ (7/568) میں ہے:

سوال: مغرب اور عشاء کے درمیان سونا کیسا ہے؟ ایک آدمی کہتا ہے کہ مغرب اور عشاء کے درمیان سونے سے عشاء کی نماز قضاء ہو جاتی ہے چاہے سونے والا جماعت میں بھی شریک ہو گیا ہو چاہے کچھ دیر سونے کے بعد اٹھ گیا ہو پھر اس کی نماز قضا ہو جاتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب: عشاء  وقت ِغیوبت ِ شفق سے شروع ہو کر صبح صادق سے پہلے تک رہتا ہے اتنے وقت میں نماز عشاء پڑھنے سے ادا ہی ہوتی ہے قضا نہیں، خواہ سوکر اٹھے تب پڑھے  یا سونے سے پہلے پڑھے، البتہ عشاء پڑھنے سے پہلے سونا نہیں چاہیے کہ جماعت ترک ہونے کا خطرہ نہ رہے،  ہاں اگر کوئی خاص ضرورت، تکلیف، سفر، تکان وغیرہ ہو اور اس کی وجہ سے اتفاقیہ کچھ دیر سو جائے تو اس سے نماز قضا نہیں قرار پائے گی جبکہ اس نے وقت کے اندر اندر پڑھ لی ہو خاص کر جماعت سے پڑھی ہو تو ترک جماعت سے محرومی نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved