- فتوی نمبر: 36-320
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
اذان سے پہلے صلاۃ وسلام پڑھنا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز نہیں۔
فیض القدیر (6/44) میں ہے:
من أحدث في أمرنا ما ليس منه فهو رد
(من أحدث) أي أنشأ واخترع وأتى بأمر حديث من قبل نفسه ………
(ما ليس منه) أي رأيا ليس له في الكتاب أو السنة عاضد ظاهر أو خفي ملفوظ أو مستنبط (فهو رد) أي مردود على فاعله لبطلانه
الفتاویٰ الکبریٰ الفقہیہ، ابن حجر ہیتمی، ت: ۹۴۷ھ (1/129) میں ہے:
سئل: ……. وهل الصلاة على النبي – صلى الله عليه وسلم – مسنونة قبل الأذان كما هي بعده، أو لا وهل الإقامة كالأذان في سنها، أو لا وهل يسن أن يقال قبل الصلاة على النبي – صلى الله عليه وسلم – بعد الأذان: محمد رسول الله، أو لا وهل ينهى عن قبل الأذان، أو لا؟
(فأجاب) ……… وأما الصلاة والسلام على النبي – صلى الله عليه وسلم – بعد الأذان والإقامة فإنهما مندوبان كما صرح به أصحابنا ……… ووردت أحاديث أخر بنحو تلك الأحاديث السابقة، ولم نر في شيء منها التعرض للصلاة عليه قبل الأذان، ولا إلى محمد رسول الله بعده ولم نر أيضا في كلام أئمتنا تعرضا لذلك أيضا، فحينئذ كل واحد من هذين ليس بسنة في محله المذكور فيه، فمن أتى بواحد منهما في ذلك معتقدا سنيته في ذلك المحل المخصوص نهي عنه ومنع منه؛ لأنه تشريع بغير دليل؛ ومن شرع بلا دليل يزجر عن ذلك وينهى عنه
احسن الفتاوی(1/368) میں ہے:
درود شریف کا موقع شریعت مطہرہ نے اذان کے بعد بتایا ہے نہ کہ اذان سے پہلے،لہذا اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا خواہ بلند آواز سے ہویا آہستہ بہر کیف ناجائز اور بدعت ہے اور دین میں اپنی طرف سے زیادتی ہے،اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز کے آخر کی بجائے نماز شروع کرتے ہی سبحانك اللهم الخ کی بجائے درود پڑھنے لگے اور روکنے والے کو درود شریف کا منکر بتائے۔
فتاوی عثمانی (1/111)میں ہے:
سوال: اذان سے پہلے صلاۃ و سلام پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟جن مسجدوں میں عرصہ تیس سال سے اذان سے قبل صلاۃ و سلام نہیں پڑھا جاتا تھا اب وہاں پڑھنے نہ پڑھنے پر نمازیوں میں شدید اختلاف پیدا ہو رہا ہے۔حدیث و فقہ کی روشنی میں دلائل کے ساتھ تحریر فرمائے۔
جواب: ……………… ہمارے زمانے میں بعض مقامات پر اذان سے پہلے جس طرح اجتماعی ہیئت میں بلند آواز سے صلوۃ وسلام پڑھنے کا رواج ہو گیا ہے اور جس طرح اس کو فرض و واجب یا اذان کا لازمی جزء سمجھا جانے لگا ہے،یہ درود شریف نہیں بلکہ اس کی نمائش ہے،جس کا کوئی ثبوت قرآن و سنت یا صحابہؓ وتابعین ؒ کے عہد مبارک میں نہیں ملتا،اس بناء پر یہ بدعت ہے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اس طریقے کے بجائے مسنون طریقے پر اخلاص اور ادب کے ساتھ درود شریف پڑھنے کا طریقہ اختیار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved