- فتوی نمبر: 36-328
- تاریخ: 06 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
والدہ کی طبیعت بہت خراب ہے اور نچلا دھڑ بے جان ہوگیا ہے، کھا بھی نہیں رہی۔ کسی نے سورۃ دخان 41 بار پڑھنے کو کہا۔ کیا یہ صحیح ہے؟ آسانی کے لیے پڑھنا چاہیے؟ ڈاکٹر نے بھی جواب دیدیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں۔
صحیح مسلم (رقم الحديث:2200) میں ہے:
عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»
صحیح بخاری (رقم الحدیث:5736) میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: «أن ناسا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أتوا على حي من أحياء العرب، فلم يقروهم، فبينما هم كذلك إذ لدغ سيد أولئك، فقالوا: هل معكم من دواء أو راق، فقالوا: إنكم لم تقرونا، ولا نفعل حتى تجعلوا لنا جعلا، فجعلوا لهم قطيعا من الشاء، فجعل يقرأ بأم القرآن ويجمع بزاقه ويتفل، فبرأ، فأتوا بالشاء، فقالوا: لا نأخذه حتى نسأل النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه فضحك وقال: وما أدراك أنها رقية؟ خذوها واضربوا لي بسهم.»
فيض القدير (3/ 471) میں ہے:
«خير الدواء القرآن) أي خير الرقية ما كان بشيء من القرآن {وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين} فهو دواء للقلوب والأبدان والأرواح وإذا كان لبعض الكلام خواص ومنافع فما بالك بكلام رب العالمين الذي فضله كفضل الله على خلقه»
حاشیۃ السندی على ابن ماجہ (2/ 343) میں ہے:
عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عليكم بالشفاءين العسل والقرآن»
قوله: (العسل والقرآن) فيه جواز الاسترقاء بالقرآن
امداد الاحکام (1/246) میں ہے:
سوال: احمدی لوگوں کااعتقاد ہے کہ کوئی قرآنی آیت برائے شفاء جسمانی نہیں اتری ہے، یہ تعویذ جوکہ مولوی لوگ لکھ کربرائے شفائے جسمانی دیتے ہیں، یہ شرک ہے، جوآیت کہ اس میں شفاء کالفظ وننزل من الخ ہے، اس شفاء سے مراد شفاء روحانی ہے نہ کہ جسمانی، ایک دو حدیث بھی حوالہ میں زبانی پیش کرتے ہیں کہ اس کی رو سے جسمانی شفاء منع ہے، وہ حدیثیں یاد نہیں ہیں، روحانی اور جسمانی کے دلائل تحریر فرمائی جائیں؟
الجواب: قرآن میں لفظ شفاء عام ہے، اس کو خاص کرنے کے لیے کوئی دلیل چاہیے، بدون دلیل کے دعویٰ تخصیص رد ہے،صحیحین میں صحابہؓ کا سورۃ فاتحہ سے سانپ کے ڈسے ہوئے کوجھاڑناپھونکنا ثابت ہے، ابن ماجہ میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’خیر الدواء القرآن‘‘ ذکرہ الحافظ ابن القیم فی زاد المعاد وسکت عنه واحتج به فهو حسن أوصحیح عنده
نیزصحیحین میں رسول اللہ ﷺ کامعوذ تین کوپڑھ کر اپنے اوپردم کرنامذکور ہے اور معوذ تین کانزول ہی اس واقعے میں ہوا ہے ، جبکہ حضور ا پر ایک یہودی نے اور اس کی بیٹیوں نے سحرکیاتھا، پھرآپ ا نے ان کو پڑھاتو سحر دفع ہوگیا، زادالمعاد میں اس کا بھی ذکر ہے، وفی البخاری عن عائشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم کان اذا اشتکى یقرأ على نفسه بالمعوذات وینفث الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved