- فتوی نمبر: 37-67
- تاریخ: 15 اکتوبر 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
حضرت آدم ؑ کو کس درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیاتھا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس میں متعدد اقوال ہیں،مشہور یہ ہے کہ وہ گندم کا درخت تھا لیکن اس درخت کو نہ تو قرآن نے متعین کیا ہے اور نہ ہی کسی مستند حدیث میں اسکی تعیین آتی ہے اس لیے مفسرین کے نزدیک بہتر توجیہ یہی ہے کہ جس کو قرآن وحدیث نے مبہم چھوڑا ہو اس کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ کونسا درخت تھا۔
تفسیر روح المعانی(1/236) میں ہے:
ووقع خلاف في هذه الشجرة، فقيل: الحنطة، وقيل: النخلة …………. والأولى عدم القطع والتعيين كما أن الله تعالى لم يعينها باسمها في الآية- ولا أرى ثمرة في تعيين هذه الشجرة
تفسیر بیضاوی (1/72) میں ہے:
والشجرة هي الحنطة، أو الكرمة، أو التينة، أو شجرة من أكل منها أحدث، والأولى أن لا تعين من غير قاطع كما لم تعين في الآية لعدم توقف ما هو المقصود عليه.
معارف القرآن (1/192) میں ہے:
آیت ولا تقربا هذه الشجرة کسی خاص درخت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا کہ اس کے قریب نہ جاؤ اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کا پھل نہ کھاؤ مگر تاکید کے طور پر عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ اس کے پاس بھی نہ جاؤ اور مراد یہی ہے کہ کھانے کے لئے اس کے پاس نہ جاؤ یہ درخت کونسا تھا قرآن کریم نے متعین نہیں کیا اور کسی مستند حدیث میں بھی اس کی تعیين مذکور نہیں ائمہ تفسیر میں سے کسی نے گندم کا درخت قرار دیا کسی نے انگور کا کسی نے انجیر کا مگر جس کو قرآن و حدیث نے مبہم چھوڑا ہے اس کو متعین کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
بیان القرآن (1/63) میں ہے:
یہ بات اللہ ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ وہ درخت کیا تھا، ہمارے لیے صرف یہ جان لینا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کھانے سے منع فرما دیا۔ جیسا کہ ہر آقا کو اختیار ہوتا ہے کہ اپنے گھر کی چیزوں میں سے غلام کو جس چیز کے برتنے کی چاہے اجازت دے دے اور جس چیز سے چاہے منع کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved