• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

” یو بی ایل امین اسلامک بینک “سے شراکت پر گاڑی خریدنا

استفتاء

میں” یو بی ایل امین اسلامک بینک “سے شراکت پر گاڑی خریدنا چاہتا ہوں، یعنی کچھ پیسے میں ادا کروں گا، باقی پیسے بینک میری طرف سے ادا کرے گا، پھر انہیں قسطوں میں ادا کرتا رہوں گا۔ اور کچھ رقم ایڈوانس بھی دینی ہوتی ہے۔ نیز بینک تکافل بھی کرواتا ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میرے لیے یہ عقد کرنا جائز ہے؟

تنقیح: گاڑی لینے کی کوئی خاص مجبوری نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ہماری تحقیق کے مطابق” یو بی ایل امین اسلامک بینک” سے گاڑی لینا  جائز نہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں اس “کار” کا تکافل بھی کروانا پڑتا ہے، اور تکافل ہماری تحقیق کے مطابق ناجائز ہےلہٰذا مذکورہ صورت جائز نہیں ہے۔تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو” جدید معاشی مسائل کی اسلامائزیشن کاشرعی جائزہ”، مؤلفہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب رحمہ اللہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved