- فتوی نمبر: 37-64
- تاریخ: 15 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان
استفتاء
نماز میں لقمہ دینا بظاہر ایک معمولی سا عمل محسوس ہوتا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اپنے اندر نہایت دقیق اور باریک فقہی پہلو رکھتا ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ لقمہ دینا دراصل کلام کے حکم میں ہے،اور نماز میں کلام نماز کو فاسد کر دیتا ہے۔البتہ شریعت نے بندوں پر آسانی کی خاطراصلاح نماز کے لیےاس کے خاص محل پر اور صرف حاجت کے وقت لقمہ دینے کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔اس لیے اگر لقمہ حاجت کے بغیر دیا جائے یا اصلاح نماز کی نیت سے بھی دیا جائے مگر اپنے محل پر نہ ہو،تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جاتی ہے،اور اگر امام نے ایسا لقمہ قبول کر لیا تو پوری جماعت کی نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔
اسی نزاکت اور باریک بینی کے پیش نظر ذیل میں چند وہ مقامات ذکر کر رہا ہوں جہاں لقمہ دینا نہ صرف ناجائز ہے بلکہ نماز کے فساد کا سبب بن جاتا ہے۔یہ وہ مواقع ہیں جن کا جاننا ہر نمازی کے لیے ضروری ہے،اور بالخصوص ائمہ کرام کے لیے تو یہ علم سیکھنا فرض عین کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے،تاکہ لاعلمی کا حجاب نماز جیسے عظیم فریضے کو متاثر نہ کردے۔
(1) امام کو پہلی دو رکعت میں بلند آواز سے قراءت کرنی تھی لیکن وہ آہستہ پڑھ رہے ہیں،اس موقع پر لقمہ نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ ہو سکتا ہے وہ ابھی ثناء ، تعوذ یا تسمیہ پڑھ رہے ہوں۔اور اگر فاتحہ میں ہوں تو بھی لقمے کا محل قائم نہیں ہوتا،کیونکہ آہستہ آواز میں”الحمدللہ”پڑھنے ہی سے سجدہ سہو کا وجوب طے ہو چکا ہوتا ہے۔ایسے نازک مقام پر لقمہ دینا اپنی نماز کے زیاں کو دعوت دینا ہے اور امام نے لے لیا تو جماعت کی نماز کا شیرازہ بھی بکھر جاتا ہے ۔
(2) البتہ امام نے پہلی دو رکعات میں آہستہ آواز سے قراءت کرنی تھی مگر وہ بلند آواز سے فاتحہ پڑھ رہے ہیں،اس صورت میں اکثر سورہ فاتحہ پڑھنے تک لقمہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں اصلاح کا امکان باقی ہے اور وہ اس طرح کہ بروقت لقمہ ملنے پر امام دوبارہ آہستہ سے فاتحہ شروع کرے گا اور اس سے سجدہ سہو ساقط ہو جائے گا۔البتہ اگر اکثر سے زیادہ فاتحہ بلند آواز سے پڑھ لی ہے تو اب لقمہ نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ اب سجدہ سہو ساقط نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اکثر سے زیادہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد اس کو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں بلکہ اگر جان بوجھ کر فاتحہ کا تکرار کیا تو نماز واجب الاعادہ ہو جائے گی،سجدہ سہو سے بھی اس کا ازالہ نہ ہوگا۔
(3) قعدہ اولیٰ میں بیٹھنا تھا مگر امام سیدھا کھڑا ہو گیا سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے لقمہ کی گنجائش تھی مگر جب امام پوری قامت سے کھڑا ہو گیا تو اب لقمہ کا محل ختم ہو چکا ہے،کیونکہ سجدہ سہو واجب ہو چکا ہے۔اب اگر کوئی لقمہ دے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی اور امام نے لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی۔بلکہ یہاں تک حکم ہے کہ امام سیدھا کھڑا ہونے کے بعد خود بھی واپس نہیں پلٹ سکتا۔کیونکہ یہ فرض سے واجب کی طرف لوٹنا ہے اور لوٹا تو مذہب قوی کے مطابق نماز فاسد ہو جائے گی۔ كما نقله الامام في الفتاوى الرضوية
(4) قعدہ اولی کے بعد کھڑا ہونا تھا مگر امام دیر کر رہا ہے اور لگ رہا ہے کہ وہ اسے قعدہ اخیرہ سمجھ رہا ہے تو لقمہ دینے کی اجازت نہیں کیونکہ ممکن ہے وہ آہستہ آہستہ ابھی تشہد ہی پڑھ رہا ہو،اور اگر درود ابراہیمی میں مشغول ہو پھر بھی لقمہ کا محل نہیں کیونکہ سجدہ سہو واجب ہو چکا ہے البتہ جب امام سلام پھیرے گا اس وقت لقمہ کا محل متحقق ہوگا تو اس وقت لقمہ دیا جائے گا ۔
(5) امام نے خلاف ترتیب قرآن پڑھنا شروع کر دیا مثلا پہلی رکعت میں سورہ فلق پڑھی اور دوسری میں سورہ اخلاص شروع کر دی۔ایسی صورت میں لقمہ بالکل نہیں دیا جا سکتا کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے نماز کے واجبات میں سے نہیں۔اور جب کسی نے خلاف ترتیب پڑھنا شروع کر دیا تو اب اسی مقام کی قراءت جاری رکھنا لازم ہے۔اور اگر یہ بھولے سے ہو تو اس میں کوئی گناہ بھی نہیں لہذا یہاں لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جائے گی اور امام نے لے لیا تو پوری جماعت کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
(6) رمضان میں جماعت وتر کے دوران تکبیر قنوت اور دعا بھول کر امام رکوع میں چلا گیا یہاں بھی لقمہ دینا جائز نہیں کیونکہ سجدہ سہو واجب ہو چکا ہے لہذا اب لقمہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں اس لیے جو شخص یہاں لقمہ دے گا اس کی نماز اور اگر امام نے لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے ۔
اس کی تصدیق مطلوب ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ تمام صورتوں میں نہ لقمہ دینے والے مقتدی کی نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ امام کی کیونکہ مقتدی کا اپنے امام کو لقمہ دینا اگرچہ بے محل ہو مفسد صلاۃ نہیں، بعض مواقع پر بعض مشائخ نے مفسد صلاۃ کا حکم لگایا ہے لیکن اکثر کی رائے یہ ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی اور راجح بھی یہی ہے۔
البحر الرائق (2/10) میں ہے:
(قوله وفتحه على غير إمامه) أي يفسدها لأنه تعليم وتعلم لغير حاجة قيد به لأنه لو فتح على إمامه فلا فساد لأنه تعلق به إصلاح صلاته أما إن كان الإمام لم يقرأ الفرض فظاهر وأما إن كان قرأ ففيه اختلاف والصحيح عدم الفساد لأنه لو لم يفتح ربما يجري على لسانه ما يكون مفسدا فكان فيه إصلاح صلاته ………….. وفي المحيط ما يفيد أنه المذهب فإن فيه وذكر في الأصل والجامع الصغير أنه إذا فتح على إمامه يجوز مطلقا لأن الفتح وإن كان تعليما ولكن التعليم ليس بعمل كثير وأنه تلاوة حقيقة فلا يكون مفسدا وإن لم يكن محتاجا إليه وصحح في الظهيرية أنه لا تفسد صلاة الفاتح على كل حال وتفسد صلاة الإمام إذا أخذ من الفاتح بعد ما انتقل إلى آية أخرى وصحح المصنف في الكافي أنه لا تفسد صلاة الإمام أيضا فصار الحاصل أن الصحيح من المذهب أن الفتح على إمامه لا يوجب فساد صلاة أحد لا الفاتح ولا الآخذ مطلقا في كل حال ثم قيل ينوي الفاتح بالفتح على إمامه التلاوة والصحيح أنه ينوي الفتح دون القراءة لأن قراءة المقتدي منهي عنها والفتح على إمامه غير منهي عنه
ہندیہ (1/99) میں ہے:
والصحيح أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة قالوا هذا إذا أرتج عليه قبل أن يقرأ قدر ما تجوز به الصلاة أو بعدما قرأ ولم يتحول إلى آية أخرى وأما إذا قرأ أو تحول ففتح عليه تفسد صلاة الفاتح والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح
شامی (2/461) میں ہے:
(بخلاف فتحه على إمامه) فإنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح وآخذ بكل حال
(قوله بكل حال) أي سواء قرأ الإمام قدر ما تجوز به الصلاة أم لا، انتقل إلى آية أخرى أم لا تكرر الفتح أم لا، هو الأصح نهر
امداد الفتاوی جدید(2/291) میں ہے :
خلاصہ سوال: امام تیسری رکعت کے سجدے سے چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوا،ایک مقتدی نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ چار رکعتیں ہو گئی ہیں،،سبحان اللہ،،کہہ کر امام کو بٹھانا چاہا،مگر چونکہ امام کو یقین تھا اس لیے اس نے مقتدی کی بات کی طرف التفات نہ کیا اور چوتھی رکعت پڑھ کر نماز پوری کی،اس صورت میں اس مقتدی کی جس نے بلا ضرورت لقمہ دیا نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک کیا حکم ہے؟ اور مذہب شافعی کیا ہے ؟اور مذہب شافعی کی ایسی کتاب جس میں اس قسم کے کثیر جزئیات ہوں،اگر آپ کے علم میں ہو تو مطلع فرمائیں ( ترجمہ از مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب)
الجواب: في الدر المختار (مفسدات الصلاة) بخلاف فتحه على امامه فإنه لا يفسد مطلقا لفاتح وآخذ بكل حال .
ترجمہ جواب: صورت مسئولہ میں”سبحان اللہ” کہنا چونکہ امام کو بتلانے کی نیت سے ہے اور خود کلام ناس سے نہیں ہے،لہذا امام اور مقتدی دونوں کی نماز صحیح ہوگی اور مذہب شافعی مجھے معلوم نہیں اور نہ ان کی کتاب کا مجھے علم ہے۔( ترجمہ از مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب)
امداد المفتین جامع(3/246)میں ہے :
سوال: امام جہری نمازوں میں قراءت سراً پڑھنے لگا تو مقتدی لقمہ دے یا نہ دے؟امام پہلا قعدہ بھول کر اٹھنے لگا تو مقتدی اشارہ کرے یا نہ؟اگر اشارہ کرنا جائز ہے تو کس وقت اور کس طرح کرے؟امام نے پہلا قعدہ پڑھ کر درود شریف شروع کر دیا تو مقتدی امام کو آگاہ کرے یا نہ کرے؟اور اگر کر سکتا ہے تو کس وقت اور کس طرح آگاہ کرے؟
جواب (یہ ایک جواب باہر سے لکھا ہوا آیا اس پر معارضہ کر کے اصل سوال کا جواب ایسے لکھا گیا)
اقول وباللہ التوفیق: صورت مذکورہ میں قدر ما تجوز به الصلاة کے بعد لقمہ دینے کی صورت میں جو حکم فساد نماز کا کیا گیا ہے یہ صحیح نہیں،اول تو اس صورت کو صورت انتقال من آیت پر قیاس کرنا درست نہیں کیونکہ یہ امر مصرح ہے کہ اگرچہ فرض قراءت تین آیات سے ادا ہو جاتا ہے اور قراءت فرض جس صفت جہر یا اخفاء کے ساتھ منقول ہے اس صفت کا اتباع واجب ہے اور اس کے خلاف کرنا ترک واجب ہے،جو کراہت تحریمی کو مستلزم ہے تو قراءت بقدر ما تجوز به الصلاة کے بعد جو قراءت امام خلاف اس صفت کے واقع ہو رہی ہے،اس میں بھی ترک واجب ہو رہا ہے اور کراہت تحریمی لازم آرہی ہے اس کی اصلاح ضروری ہے، بخلاف انتقال من آيۃ الى آيۃ کےکہ اس میں کوئی ترک واجب یا کراہت تحریمی لازم نہیں آتی، اس لیے اس صورت کو اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں،ثانیا اگر یہ قیاس بھی درست مانا جائے تب بھی فساد صلوۃ کا حکم جمہور مشائخ اور قول مفتی بہ کے خلاف ہے۔
لما في شرح المنية: (وان انتقل الامام الى آية آخرى ففتح عليه) المؤتم (بعد الإنتقال تفسد صلاة الفاتح، وإن اخذ الإمام) بقوله (تفسد صلاة الكل) وهذا قول بعض المشائخ لانتفاء الحاجة فصارت تعليما وتعلما من غير ضرورة وعامة المشايخ على ما يفيده لفظ المحيط على عدم الفساد،قال في الكافي: والصحيح أن لا تفسد بكل حال ووجهه الحديث المذكور حيث قال عليه الصلاة والسلام لأبي “هلا فتحت علي” مع أنه لا يعلم تركه الآية الا بعد الإنتقال إلى آية اخرى۔
وفي الدر المختار: بخلاف فتحه علی إمام فانه لا يفسد مطلقا لفاتح وآخذ بكل حال۔
وفي الشامية:أی سواء قرأ الامام قدرما تجوز به الصلاه أم لا،إنتقل إلى آية اخری ام لا،تكرر الفتح أم لا،هو الاصح نهر۔
عبارات مرقومہ بالا سے بو ضاحت ثابت ہے کہ امام کو لقمہ دینا اور لینا کسی حال مفسد نماز نہیں قول مختار اور راجح اور صحیح یہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved