• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

” آج کے بعد اس لڑکے سے میں نے بات بھی کی تو آپ کو تین طلاقیں ہوں”کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہوا اور باپ بیٹے کو مارنے لگا تو بیوی نے شوہر کو ڈانٹا کہ آپ اس طرح بچے کو نہ ماریں اس پر شوہر نے بیوی سے مخاطب ہوکر کہا کہ” آج کے بعد اس لڑکے سے میں نے  بات بھی کی تو آپ کو تین طلاقیں ہوں”اگلے دن لڑکا سویا ہوا تھا باپ جاکر  اسی لڑکے( جس کے بارے میں  بات نہ کرنے پر بیوی کو تین طلاقیں دینے کا کہا تھا) کو مارنے لگا اتنے میں بیوی نے آکر شوہر سے کہا کہ آپ مت ماریں آپ اس پر تین طلاقیں دے چکے ہیں تو  شوہر نے اس پر کہا چھوڑو ایسی قسمیں اور طلاقیں اور  لڑکے کو مارتا رہا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ بیوی کو  تینوں طلاقیں واقع  ہوچکی ہیں ؟اگر ہوچکی   ہیں تو  دوبارہ رجوع  کی کوئی  صورت  ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: میاں بیوی کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: حضرت وہ دیہات میں رہتے ہیں نہ موبائل  کام کرتا ہے نہ وہاں کوئی  اور سسٹم ہے ہفتے میں ایک دن آتے ہیں آپ  نے جو پوچھنا ہے   مجھے بتادیں  میں  ان سے پوچھ کر بتادوں گا۔

مزید وضاحت مطلوب ہے: کیا والد نے مارتے وقت لڑکے سے بات بھی کی تھی؟ یا ابھی تک کوئی بات نہیں کی؟

جواب وضاحت: جی ہاں بات کی ہے۔اور دوسری بات شوہر انکاری ہے کہ اس نے  تینوں طلاقیں نہیں دیں، مطلقاً اس  نے طلاق کہا ہے۔جبکہ بیوی کہتی ہے کہ اس نے تینوں طلاقیں دی تھیں  اور اس پر لڑکی کا والد بھی کہتا ہے کہ اس وقت میں بھی موجود تھا شوہر تینوں طلاقیں  دے چکا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر  بیوی  اپنے  بیان میں سچی ہے تو اس  کے  بیان کے مطابق بیوی پر تین طلاقیں  واقع ہو چکی ہیں  جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب بیوی کے لیے  رجوع کرنے کی گنجائش نہیں ۔

توجیہ:  مذکورہ صورت میں شوہر نے طلاق کو لڑکے کے ساتھ بات کرنے پر معلق کیا تھا جب شوہر نے لڑکے سے بات کی تو ایک طلاق تو یقینی طور پر واقع ہو چکی ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان تعدادِطلاق میں اختلاف ہے  شوہر ایک طلاق کا قائل ہے جبکہ بیوی تین طلاقوں کی قائل ہے اس صورت میں المرأة کالقاضی پر عمل کرتے ہوئے بیوی اپنے حق میں تین طلاقیں سمجھے گی  لہذا بیوی پر اپنے بیان کے مطابق لازم ہے  کہ وہ شوہر سے جدائی اختیار کرے اور شوہر کواپنے پاس نہ آنے دے۔

ہندیہ (1/420) میں ہے:

وإذا ‌أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

بدائع الصنائع (3/30) میں ہے:

‌وأما ‌حكم ‌هذه ‌اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط، ثم نبين أعيان الشروط التي تعلق بها الطلاق والعتاق على التفصيل، ومعنى كل واحد منهما حتى إذا وجد ذلك المعنى يوجد الشرط فيقع الطلاق والعتاق وإلا فلا، أما الأول فلأن اليمين بالطلاق والعتاق هو تعليق الطلاق والعتاق بالشرط ومعنى تعليقهما بالشرط – وهو إيقاع الطلاق والعتاق في زمان ما بعد الشرط – لا يعقل له معنى آخر، فإذا وجد ركن الإيقاع مع شرائطه لا بد من الوقوع عند الشرط

شامی (4/449) میں ہے:

والمرأة ‌كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها  تمكينه

العقود الدریۃ (1/37) میں ہے:

أن المرأة ‌كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لأنها لا تعلم إلا الظاهر.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved