- فتوی نمبر: 35-67
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > بیمار کی نماز کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلے کے بارےمیں کہ ایک عورت ہے اس کو ہمیشہ سے یہ بیماری ہے کہ جب نماز کھڑی ہوکر پڑھتی ہے اور رکوع کرتی ہے تو حالتِ رکوع میں اس کی شرمگاہ سے پانی گرتا ہے اس وجہ سے وہ فرض نماز بیٹھ کر پڑھتی ہے ،کیا اس کے لیے فرض نماز بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یا کھڑے ہوکر پڑھنا ہی فرض ہے چاہےپانی بھی گرے ؟
تنقیح: کھڑی ہوکر رکوع کے لیے اگر ذرا سا بھی جھکے توبھی پانی گرتا ہے اور کپڑا وغیرہ رکھا جائے تو بھی پانی نکلتا ہے ، باقی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بھی پانی گرتا ہے لیکن عورتیں تو زمین کے ساتھ چپک کر سجدہ کرتی ہیں اس لیے بیٹھ کر رکوع، سجدہ کرتے وقت وہ شرمگاہ پر ایڑی رکھ لیتی ہےجس کی وجہ سے پانی باہر نہیں آتا ،یہ مسئلہ ان کو تین ،چار سال سے ہے اور وہ تین ،چار سال سے بیٹھ کر نماز پڑھتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ عورت اسی طرح بیٹھ کر شرمگاہ پر ایڑھی رکھ کر رکوع ،سجدے کے ساتھ نماز پڑھے ،اس کے لیے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا فرض نہیں۔
شامی (1/ 558)میں ہے:
(فروع) يجب رد عذره أو تقليله بقدر قدرته ولو بصلاته موميا وبرده لا يبقى ذا عذر بخلاف الحائض.
وفى الشامية: (قوله: ولو بصلاته مومئا) أي: كما إذا سال عند السجود ولم يسل بدونه فيومئ قائما أو قاعدا، وكذا لو سال عند القيام يصلي قاعدا، بخلاف من لو استلقى لم يسل فإنه لا يصلي مستلقيا. اهـ. بركوية. (قوله: وبرده لا يبقى ذا عذر) قال في البحر: ومتى قدر المعذور على رد السيلان برباط أو حشو أو كان لو جلس لا يسيل ولو قام سال وجب رده، وخرج برده عن أن يكون صاحب عذر، ويجب أن يصلي جالسا بإيماء إن سال بالميلان؛ لأن ترك السجود أهون من الصلاة مع الحدث. اهـ
مسائل بہشتی زیور(1/59)میں ہے:
مسئلہ: اگر جھکنے سے یا سجدہ کرنے سے خون جاری ہو جاتا ہے یا پیشاب کے قطرے گرنے لگتے ہیں کھڑے رہنے یا بیٹھنے سے جاری نہیں ہوتے تو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھے۔ اگر کھڑے ہونے سے عذر جاری رہتا ہے بیٹھنے سے نہیں تو نماز بیٹھ کر پڑھے۔ ان صورتوں میں یہ شخص معذور نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved