- فتوی نمبر: 26-204
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
السلام علیکم: میرا آپ سے ایک سوال ہے، ایک عورت ہے ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ان کی زندگی میں وفات پاگئی ہیں اورایک بیٹا اور دو بیٹیاں زندہ ہیں ، اب وہ عورت وفات پاگئی ہیں ، اب ان کا ایک مکان ہے آپ بتا دیں کہ ان کا مکان شرعی طور پر کس حساب سےکس کس میں اور کتنا تقسیم ہوگا؟ کیا جو اولاد پہلے فوت ہوگئی ہے ان کو ملے گا یا نہیں ؟ یہ مکان عورت کے نام پر ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا عورت کا شوہر اور عورت کے والدین زندہ ہیں؟
جواب وضاحت:عورت کا شوہر اور والدین پہلے وفات پاگئے تھے عورت ان کے بعد فوت ہوئی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل ترکہ کے چار حصے کیے جائیں گے، جن میں سے دو حصےاس عورت کے بیٹے کو اور ایک ایک حصہ اس عورت کی ہر بیٹی کو ملے گا ، اور جو اولاد پہلے فوت ہوگئی ہے ان کو یا ان کے ورثاء کو شرعا اس عورت کی میراث میں سے کچھ نہ ملے گا۔
تقسیم کی صورت درج ذیل ہے:
4
ایک بیٹا دو بیٹیاں
عصبہ
2 1+1
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved