- فتوی نمبر: 26-298
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وصیت کے احکام
استفتاء
زینب (زوجہ زید ) کا 22 فروری، 2022ء کو انتقال ہوگیا ہے، زینب کے شوہر زید اور والدین اس کی زندگی میں ہی فوت ہوچکے تھے، مرحومہ کی اولاد کوئی نہیں ہے۔ مرحومہ کا ایک حقیقی بھائی تھا جو ان کی زندگی میں فوت ہوگیا تھا، اس بھائی کی اولاد میں سے 2 بیٹے، 2 بیٹیاں زندہ ہیں۔ مرحومہ کا ایک علاتی بھائی بھی ان کی زندگی میں فوت ہوگیا تھا، اس بھائی کی اولاد میں سے 1بیٹا اور 2 بیٹیاں حیات ہیں۔ مرحومہ کی 1 علاتی بہن زندہ ہے۔
مرحومہ نے اپنی زندگی میں ہی مجھے کہا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میری جائیدادیں غریب اور ضرورت مند لوگوں کی فلاح کے لیے اور اسی طرح جہاں میں مناسب سمجھوں استعمال کردینا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی ایک ٹرسٹ بناکر اپنا رہائشی گھر اس ٹرسٹ کے نام منتقل کردیا تھا اور اپنی وفات کے بعد انڈس ہسپتال کراچی کے نام وقف کرنے کا کہا تھا۔ (جس کا وقف نامہ آپ کو ارسال کردیا گیا ہے)۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دوسرے اثاثے بھی مرنے کے بعد غریب اور ضرورت مند لوگوں پر خرچ کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے میرے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ میں ایک بڑی رقم بھی منتقل کی تھی اور اس رقم کا مقصد بھی یہی تھا کہ انہیں ضرورت مند لوگوں کے لیے یا ان کی زندگی میں کسی اچانک ضرورت کے لیےاستعمال کیا جاسکے۔
اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ تحریری طور پر رہنمائی کریں کہ مرحومہ کی متروکہ جائیدادیں کس طرح استعمال کریں جس سے ان کی خواہشات پوری ہوں اور ساتھ ہی ہم شریعت کے تقاضوں کو بھی پورا کریں۔ میں فی الحال کراچی میں ہوں اور یہاں رہتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنا چاہتا ہوں۔ لہذا اگر آپ جلد از جلد اس بارے میں شریعت کے مطابق رہنمائی فراہم کردیں تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ زینب نے چونکہ اپنا رہائشی گھر اپنی زندگی میں ہی ٹرسٹ کے نام اس شرط پر وقف کردیا تھا کہ ان کی وفات کے بعد یہ گھر انڈس ہسپتال کراچی کو وقف کردیا جائے اس لیے ٹرسٹ کی پراپرٹی (ان کا رہائشی گھر) ان کی شرط کے مطابق انڈس ہسپتال کو دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مرحومہ کا اپنے مرنے کے بعد اپنی دیگر جائیدادیں مصارفِ خیر میں خرچ کرنے کا کہنا وصیت ہے اور وصیت زیادہ سے زیادہ کل ترکہ کے ایک ثُلث (ایک تہائی) میں جاری ہوسکتی ہے لہٰذا زینب کا کل ترکہ (گھر کے علاوہ دیگر جائیدادیں) تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک حصہ میں وصیت جاری ہوگی اور باقی دو حصے ان کے ورثاء میں تقسیم کیے جائیں گے۔ البتہ اگر ورثاء اپنی رضامندی سے سارا ترکہ مرحومہ کی خواہش کے مطابق خرچ کرنے کی اجازت دے دیں تو پھر سارا ترکہ وصیت کے مطابق خرچ کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ورثاء کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے کیونکہ نابالغ کی اجازت معتبر نہ ہو گی بلکہ اس کو اس کے حصے کا مال دینا ضروری ہے۔
ورثاء میں ترکہ کی تقسیم اس طرح ہو گی کہ کل ترکہ سے ایک تہائی وصیت کا مال الگ کرنے کے بعد باقی ترکہ کے چار حصے کیے جائیں گے دو حصے علاتی بہن کو ملیں گے اور باقی دو حصے حقیقی بھائی کے دو بیٹوں کو ایک ایک کرکے ملیں گے۔
در مختار مع رد المحتار (6/665) میں ہے:
شرط الواقف كنص الشارع
در مختار مع رد المحتار (10/355) میں ہے:
(وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك) ……. (و) كون (الموصى له حيا وقتها)…….. (و) كونه (غير وارث) وقت الموت ….. (و) كون (الموصى به قابلا للتملك بعد موت الموصي) وأن يكون بمقدار الثلث (وركنها قوله: وأوصيت بكذا لفلان وما يجري مجراه من الألفاظ المستعملة فيها) …… (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) …. (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله – عليه الصلاة والسلام – «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون
قوله: (وأن يكون بمقدار الثلث) أي إن كان ثمة وارث ولم يجزها بالأكثر. وبما قررناه ظهر أن هذه الشروط بعضها شروط لزوم وهي ما توقفت لحق الغير ونفذت بإجازته وبعضها شروط صحة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved