- فتوی نمبر: 34-356
- تاریخ: 08 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
میری شادی 8 فروری 2009 میں قرار پائی اور نئی زندگی یعنی شادی شدہ زندگی کا آغاز ہوا۔الحمدللہ چند سال اچھے گزرے اور اللہ تعالی نے ہمیں اولاد سے نوازا کچھ سال اور گزرے تو مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میری بیوی ناقص العقل ہے اور اس کے کیے گئے فیصلے منفی ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا میں نے روک ٹوک کی اور ان کے فیصلے ماننے سے انکار کیا اور ان کے فیصلوں کی مخالفت میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے پہلے تو میں نے کچھ عرصہ پیار سے سمجھایا پھر میں نے زدوکوب بھی کیا،بول چال بھی ترک کی مگر مخالفت جاری رہی اور بد کلامی اور سرکشی جاری رہی۔ایک دن لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے بغیر ارادی طور پر اپنی بیوی کو تین بار طلاق یعنی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تین بار بول دیا مگر میرا ارادہ ایک ہی طلاق کا تھا چونکہ یہ غیر ارادی طور پر ہوا اور اس میں شرعی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا تھا اور لاعلمی کی وجہ سے تین بار بول دیا اگر میرا ارادہ ہوتا اسے طلاق دینے کا تو میں شرعی طریقہ اختیار کرتا اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا،دل کے راز اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا میں حلف ( قسم) دینے کو بھی تیار ہوں کہ میرا ارادہ اسے خبردار کرنے کا تھا نہ کہ چھوڑنے کا یعنی میں نے طلاق ایک ہی دی ہے اور باقی دو طلاق تاکید کی رو سے دی تاکہ بات پکی ہو جائے۔
1۔مفتی مہدی حسن سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند کی کتاب(اقامة القيامة) صفحہ نمبر 75۔
2۔مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب بہشتی زیور 78/8۔
3۔حضرت ابو رکانہ رضی اللہ عنہ والی روایت (مسند احمد) 265/1
4۔ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت۔
ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے رجوع کر لیا اب اس بات کو تین سال گزر چکے ہیں لیکن میری بیوی اب مطمئن نہیں ہے وہ کہتی ہے کہ علماء دیوبند سے فتوی لو تاکہ میرے دل کو تسلی اور اطمینان ہو جائے کہ یہ حرام نہیں ہے۔ کیا ہمارا نکاح خارج ہو چکا ہے یا کوئی گنجائش باقی ہے؟برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت مطلوب ہے:مفتی مہدی حسن صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتابوں کی جس عبارت سے آپ یہ مسئلہ سمجھے ہیں اس صفحے کی تصویر بھیجیں۔
جواب وضاحت:محترم مفتی صاحب کتابیں مجھے میسر نہیں میں نے گوگل پر دیکھا تھا اس بات کی تصدیق آپ کریں کیا واقعی کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے؟ وہ عبارات درج ذیل ہیں:
1۔مفتی مہدی حسن صاحب سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند اپنی کتاب “اقامۃ القیامہ”میں تحریر کرتے ہیں:
اگر عورت مدخول بہا ہے اور ایک ہی طلاق دینے کا ارادہ تھا لیکن بتکرار لفظ تین طلاق دی اور دوسری اور تیسری طلاق کو بطور تاکید استعمال کیا ہو تو دیانتاً قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا اور ایک رجعی طلاق واقع ہوگی اس میں اختلاف نہیں۔
2۔حنفی مسلک کی کتاب “بہشتی زیور”میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
کسی نے تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق،طلاق، طلاق۔تینوں طلاقیں پڑ گئیں یا گول الفاظ میں تین مرتبہ کہا تب بھی تین پڑ گئیں لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی ہے،فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک ہی طلاق ہوئی لیکن عورت کو اس کے دل کا حال تو معلوم نہیں اس لیے یہی سمجھے کہ تین طلاقیں مل گئیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کم از کم بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
مفتی مہدی حسن صاحب کی جس کتاب کا حوالہ آپ نے دیا ہے وہ ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی اور جو عبارت آپ نے بھیجی ہے اس میں یہ موجود ہے کہ دیانتاً ایک طلاق ہوگئی یعنی بندے اور اللہ کے درمیان یہ ایک طلاق شمار ہوگی لیکن اگر یہ مقدمہ عدالت تک پہنچ جائے تو قضاءً یہ تین ہی شمار ہوں گی اورچونکہ عورت بھی طلاق کے معاملے میں قاضی کی طرح ہے لہذا اگر عورت تین طلاق کے الفاظ خود سن لے یا اسے کوئی معتبر آدمی خبیر دیدے تو وہ اپنے حق میں تین طلاقیں شمار کرے گی۔
اور بہشتی زیور کی جو عبارت آپ نے ہمیں بھیجی ہے اس میں بھی یہ بات موجود ہے کہ ”عورت یہی سمجھے کہ تین طلاقیں مل گئی“ یعنی جب تک یہ معاملہ بندے اور اللہ کے درمیان ہو تو ایک ہی طلاق شمار ہوگی لیکن اگر عورت کے سامنے یہ معاملہ آگیا تو عورت اس کو تین ہی طلاقیں سمجھے گی۔
نیز آپ کا مسند احمد میں مذکور حضرت رکانہ والی روایت کو مدِ نظر رکھ کر تین طلاقوں کو ایک شمار کرکے رجوع کرنا بھی درست نہیں کیونکہ حضرت رکانہ والی حدیث دو طرح سے مروی ہے ایک میں ہے کہ حضرت رکانہ نے تین طلاقیں دیں اور دوسری میں ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ دی تھی۔اس بارے میں محدثین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ دی تھی۔طلاق بتہ میں ایک طلاق کی یا تین طلاق کی نیت کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کا مدار طلاق دینے والی کی نیت پر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رکانہ سے اس بارے میں قسم بھی لی کہ ان کی نیت صرف ایک ہی طلاق دینے کی تھی۔اور چونکہ طلاق بتہ میں تین طلاق کا بھی احتمال موجود ہے اس لیے ممکن ہے کہ کسی راوی نے اس کو تین طلاق کے لیے متعین سمجھ کر روایت بالمعنی کے طور پر یوں کہہ دیا کہ انہوں نے تین طلاقیں دی تھیں۔
اس واقعے میں طلاق بتہ کو ترجیح دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ امام ابو داؤد فرماتے ہیں “هذا اصح من حديث ابن جريج ان ركانة طلق امراته ثلاثا لانهم اهل بيته وهم اعلم به“یعنی جس حدیث میں ہے کہ حضرت رکانہ نے طلاق بتہ دی تھی وہ اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حضرت رکانہ نے تین طلاقیں دیں کیونکہ طلاق بتہ والی بات ان کے گھر والے روایت کر رہے ہیں اور طلاق جیسے گھریلو معاملہ کو گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں۔لہذا اس حدیث سے تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال درست نہیں۔
شرح النووی على مسلم(10/ 71)میں ہے:
واحتجوا أيضا بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ما أردت إلا واحدة قال الله ما أردت إلا واحدة فهذا دليل على أنه لو أراد الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثا فجعلها واحدة فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين وإنما الصحيح منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك.
سنن ابی داؤد (رقم الحدیث (2208) میں ہے :
عن نافع بن عجير بن عبد يزيد بن ركانة أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة البتة، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك، وقال: والله ما أردت إلا واحدة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “والله ما أردت إلا واحدة؟ ” فقال ركانة : والله ما أردت إلا واحدة، فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فطلقها الثانية في زمان عمر، والثالثة في زمان عثمان…
قال أبو داود:وهذا أصح من حديث ابن جريج: أن ركانة طلق امرأته ثلاثا، لأنهم أهل بيته وهم أعلم به وحديث ابن جريج رواه عن بعض بني أبي رافع، عن عكرمة، عن ابن عباس.
اور اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی آپ کا تین طلاقوں کے ایک ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خود تین طلاقوں کو تین شمار کرنے پر فتوی دیتے تھے لہذا اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس سے تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کی جو روایت ہے وہ اپنے اصلی معنی پر محمول نہیں ورنہ حضرت ابن عباس اپنی روایت کے خلاف عمل نہ کرتے۔حضرت ابن عباس کی روایت کے مزید جوابات دیکھنے کے لیے ہمارا سابقہ فتوی (33-10) ساتھ منسلک ہے ملاحظہ فرمائیں۔
ابو داؤد(حدیث نمبر:2179)میں ہے:
عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه. ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك۔
ترجمہ:مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت عبداللہ بن عباسؓ کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)
تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
بدائع الصنائع(3/187) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved