• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک وارث کا اپنے حصے سے زائد حصہ دوسرے ورثاء کو دینا

استفتاء

وراثت صرف میت کے بیٹوں میں تقسیم ہوئی ہے، بیٹی اور بیوی کو حصہ نہیں ملا ۔ایک بیٹے کو وراثت میں ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ روپے ملے۔ اب ایک بیٹا اپنی بہن  اور ماں کو حصہ دینا چاہتا ہے ، تو یہ اپنے حصے میں سے کتنے پیسے اپنی ماں کو دے اور کتنے پیسے اپنی بہن کو دے۔

وضاحت مطلوب ہے کہ: 1)فوت ہونے  والے کا کل ترکہ کتنا ہے؟

2)میت کے والدین زندہ ہیں یا فوت ہوگئے؟ اگر فوت ہوگئے ہیں تو میت سے پہلے فوت ہوئے ہیں یا بعد میں؟

جواب وضاحت:1)چھ کروڑ بہتر لاکھ 67200000۔

2) مرحوم کے والدین، مرحوم سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں 67200000/= (چھ کروڑ بہتر لاکھ) روپوں کو 72حصوں میں تقسیم کر کے ان میں سے 14-14حصے (یعنی 13066667/=روپے) ہر بیٹے کو، 7حصے(یعنی 6533333/=روپے) بیٹی کو، اور 9حصے(یعنی 8400000/=روپے) بیوی کو ملیں گے۔

چونکہ مذکورہ میں صورت 67200000/= روپےصرف چار بیٹوں میں تقسیم کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہر بیٹے کے حصے میں 3733333/= روپے اپنے حصے سے زائد آئے ہیں، جن میں سے بہن کے 1633333/=روپے اور والدہ یعنی میت کی بیوی کے 2100000/=روپے بنتے ہیں۔ لہٰذا یہ اپنے حصے میں سے 1633333/=روپے اپنی بہن کو اور 2100000/= روپے اپنی والدہ کو دیدے۔

توجیہ:  بیٹی کا حصہ 6533333/=روپے کو 4بیٹوں پر تقسیم کیا جائے تو ہرایک بیٹے کے پاس 1633333/=روپے بنتے ہیں اور والدہ کا حصہ 8400000/=روپے چار بیٹوں پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایک بیٹے کے پاس 2100000/=روپے بنتے ہیں۔ اور ہر بیٹے نے جو 16800000/= روپے وصول کیےہیں ان میں سے اگر ہر بیٹے کا اپنا حصہ (1306667/=) منہا کیا جائے تو ہر بیٹے کے پاس 3733333/=روے زائد بنتے ہیں۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ نے اپنے حصے سے جو زائد پیسے(3733333روپے) وصول کیے ہیں ان میں  سے 1633333روپے اپنی بہن کو دینے ہوں گے اور 210000روپے اپنی والدہ کو دینے ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved