- فتوی نمبر: 32-262
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرا نام زید ہے ۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور والدہ حیات ہیں۔ ترکہ میں انہوں نے ایک مکان چھوڑا ہے۔ بوقتِ انتقال والد صاحب پر قرض بھی تھا جو بڑے بھائی نے اپنے ذمے لیا تھا اور والد صاحب کے بعد چھوٹی بہن کی شادی بھی بڑے بھائی نے کروائی اور چھوٹے بھائی کی پڑھائی کا خرچ بھی بڑے بھائی نے کیا۔
والد صاحب کا چاچو کے ساتھ ٹینٹ سروس کا مشترکہ کاروبار تھا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم نے اپنا حصہ چاچو سے الگ کر لیا تھاپھر اس دکان کو میں نے اکیلے سنبھال لیا اور اس کا نفع بھی اس وقت سے اب تک میں ہی استعمال کر رہا ہوں۔ میں نے قرض لے کر اس میں مزید سامان بھی شامل کیا تھا۔ا بو کی وفات کے بعد میں نے اور بڑے بھائی نے مل کر ایک 5 مرلے کا پلاٹ بھی خریدا ہے جس کی 60 فیصد رقم بھائی نے ادا کی ہے اور 40 فیصد میں نے ادا کی ہے۔وہ پلاٹ میرے قبضے میں ہی ہے۔
والد صاحب کے کاروبار سے جو کچھ نفع کما کر میں خرچ کر چکا ہوں اس کا کسی وارث کو مطالبہ نہیں ہے، سب ورثاء کا بیان مع دستخط ساتھ لف ہے:
والدہ کا بیان:
میں اپنے بیٹے زید کے کاروبار سے آج تک جو کچھ اس نے کمایا ہے اس میں سے کچھ نہیں لینا چاہتی۔
بڑے بھائی کا بیان:
میں مسمی خالد اپنے بھائی زید کے کاروبار سے (جو کہ مشترک ہے ابو کے وراثت کے مال سے) آج تک جو اس نے نفع کمایا ہے اور خرچ کیا ہے اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لینا چاہتا۔
چھوٹے بھائی کا بیان:
میں بکر بڑے بھائی زید کے کاروبار سے (جو کہ مشترک ہے ابو جی کے وراثت کے مال سے) آج تک جو اس نے نفع کمایا ہے اور خرچ کیا ہے اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لینا چاہتا۔
ہمشیرہ (فاطمہ )کا بیان:
میں مسماۃ فاطمہ اپنے بھائی زید کے کاروبار سے (جو کہ مشترک ہے ابو کے وراثت کے مال سے) آج تک جو اس نے نفع کمایا ہے اور خرچ کیا ہے اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لینا چاہتی۔
ہمشیرہ (زینب ) کا بیان:
میں مسماۃ زینب اپنے بھائی زید کے کاروبار سے (جو کہ مشترک ہے ابو کے وراثت کے مال سے) آج تک جو اس نے نفع کمایا ہے اور خرچ کیا ہے اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لینا چاہتی۔
ہمشیرہ (خدیجہ)کا بیان:
میں مسماۃ خدیجہ اپنے بھائی زید کے کاروبار سے (جو کہ مشترک ہے ابو کے وراثت کے مال سے) آج تک جو اس نے نفع کمایا ہے اور خرچ کیا ہے اس میں سے میں کچھ بھی نہیں لینا چاہتی۔
اب مذکورہ مسئلے میں وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟
تنقیح:1۔ بڑے بھائی سے فون پر رابطہ کیا گیا، ان کا بیان یہ ہے کہ والد صاحب کا جو قرض میں نے ادا کیا ہے اور ہمشیرہ کی شادی پر جو خرچہ کیا ہے وہ اس لیے کہ گھر میں میں ہی بڑا تھا ۔اور خرچ کرتے وقت میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ میں بعد میں لوں گا یا نہیں لوں گا البتہ جو ہو گیا بہتر ہو گیا مجھے خرچ کی رقم کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔
2۔والد صاحب کے کاروبار کے نفع سے میں نے جو پلاٹ خریدا ہے بقیہ تمام ورثاء اس میں سے حصہ نہیں لینا چاہتے۔تمام ورثاء کا بیان مع دستخط ساتھ لف ہے:
ورثاء کا بیان:
محمد زید ولد واجد نے اپنے والد کے کاروبار سے جو کہ وراثت مین سب کا مشترک ہے ، جو پلاٹ خریدا ہے ہم سب شرکاءِ وراثت اس سے دستبردار ہوتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں کل ترکہ کے 72 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 9 حصے (12.5 فیصد) مرحوم کی بیوی کو، 14۔14 حصے (44.19 فیصد) ہر بیٹے کواور 7۔7 حصے (722.9 فیصد) ہر بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم درج ہے:
8×9=72
| بیوی | 3بیٹے | 3 بیٹیاں |
| ثمن | عصبہ | |
| 8/1 | 7 | |
| 1×9 | 7×9 | |
| 9 | 63 | |
| 9 | 14+14+14 | 7+7+7 |
2۔بڑے بھائی نے جو قرضہ ادا کیا اور ہمشیرہ کی شادی میں خرچہ کیا وہ اپنی طرف سے کیا تھا اس لیے وہ وراثت میں سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
3۔ دکان کا جو کچھ سامان موجود ہے وہ بھی ترکہ میں شامل ہو گا۔
توجیہ:والد صاحب کے انتقال کے بعد دکان کے سامان میں تمام ورثاء کی شرکتِ ملک قائم ہو چکی تھی اس لیے دکان کے سامان اور اس کے نفع میں تمام ورثاء شریک تھے لیکن جو نفع خرچ ہو چکا ہے اس سے تمام ورثاء دستبردار ہو رہے ہیں اس لیے اس کا حساب نہیں ہو گا البتہ موجودہ سامان ترکہ میں شامل ہو گا۔
4۔مذکورہ پلاٹ میں 60 فیصد حصہ تو صرف بڑے بھائی کا ہے اور بقیہ 40 فیصد میں بڑے بھائی سمیت تمام ورثاء کا حصہ اب بھی باقی ہے البتہ اگر ورثاء میں سے ہر ایک یہ کہہ دے کہ “میں اس پلاٹ میں سے اپنا وراثتی حصہ زید ولد واجد کو ہبہ /ہدیہ کرتا ہوں ” تو اس سے بقیہ ورثاء کا وراثتی حصہ آپ (زید ) کی ملک ہوجائے گا اور بڑے بھائی کا جو 60 فیصد حصہ وراثتی حصے کے علاوہ ہے وہ ان ہی کی ملکیت رہے گا۔
توجیہ: چونکہ ابراء عن الاعیان درست نہیں اس لیے بقیہ ورثاء کی اپنے حصے سے دستبرداری معتبر نہیں ۔ البتہ اگر وہ اپنا حصہ آپ کو ہبہ /ہدیہ کردیں تو درست ہے۔ نیز یہ اگرچہ ہبۃ المشاع ہے لیکن مذکورہ صورت میں اگر پلاٹ کے وراثتی حصے کو تقسیم کیا جائے تو وہ قابل انتفاع نہیں رہتا اور ایسی چیزوں میں ہبۃ المشاع درست ہے اس لیے مذکورہ صورت میں ہبہ /ہدیہ درست ہوگا ۔ نیز چونکہ مذکورہ حصہ موہوب لہ (زید ) کے قبضے میں پہلے ہی سے ہے لہذا اس ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے مزید کسی قبضے کی ضرورت نہ ہوگی۔
المبسوط للسرخسی (11/ 107)میں ہے:
الإبراء عن العين لغو، فإن الإبراء إسقاط، والعين ليست بمحل له إذ لا تسقط حقيقة، ولا يسقط ملك المالك عنها أيضا، وإضافة التصرف إلى غير محله لغو
شامی (8/ 576)میں ہے:
تصح الهبة بالقبض الكامل…..في محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين
شرح المجلۃ(3/379)میں ہے:
اما ما لا يقبلها[القسمة[بأن كان لا ينتفع به بعد القسمة انتفاعا من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة،كبيت صغير او حمام،فتصح هبته وتتم بقبضه شائعاً بأن يقبض الكل،لان قبض كل شيء بحسبه،وهذا لا يكون قبضه الا كذلك،فاكتفى بذلك وتمت به الهبة۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved